منی لانڈرنگ کیس منتقلی:زرداری،فریال کی حکم امتناع کی درخواست مسترد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی :سندھ ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس اسلام آباد منتقلی کیخلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی ۔

تفصیلات کے مطابق، منگل کو سندھ ہائیکورٹ میں  سابق صدر آصف علی زرداری اور  فریال تالپور کی منی لاندرنگ کیس کی منتقلی  کیخلاف درخواستوں کی سماعت  ہوئی ۔

دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ یہ تو سپریم کورٹ کا حکم تھا اس لئے نیب نے انکوائری کو آگے بڑھایا جس پردرخواستگزاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے مقدمہ ٹرانسفر کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

عدالت نے چیئرمین نیب اور بینکنگ کورٹ کو 26 مارچ کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کو بھی طلب کرلیا ۔

درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کی مقدمہ منتقلی کی درخواست بد نیتی پر مبنی تھی،درخواست میں سپریم کورٹ کے حکم کی غلط تشریح کی گئی ،سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کے مقدمہ 04/18 کو تفتیش کیلئے نیب کے سپرد نہیں کیا ۔

بینکنگ کورٹ کا حکم انصاف کے بنیادوں اصولوں کے برخلاف ہے،مقدمہ اسلام آباد منتقلی سے ملزمان اور گواہوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گاجبکہ عدالت نے انور مجید اور عبدالغنی کی درخواستوں  پر بھی نوٹس جاری کر ددیئے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تو لکھ دیا کہ ہم کیس اسلام اباد منتقل کرنے کا حکم دیتے ہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب کیا بچتا ہے،یہ بتائیں نیب کے کس قانون کے تحت ضمنی چالان پیش کر سکتا ہے۔

 عدالت نے مقدمہ منتقلی کیخلاف حکم امتناع کی آصف زرداری کی استدعا  مسترد کردی ۔

سماعت کے بعد آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے غیر رسمی گفتگو  میں کہا کہ عدالت نے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس کردیئے ہیں، عدالت نے سماعت 26 مارچ تک ملتوی کردی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے عدالت سےاستدعا کی تھی کہ تمام ریکارڈ منگوایا جائے لیکن عدالت نے میری استدعا مسترد کردی۔

loading...
loading...