مقبوضہ کشمیر میں ایک اور دھماکا

Untitled-1

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں جموں بس اسٹینڈ کے قریب دھماکا ہوا ہے، جس میں  متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ جبکہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ تاحال یہ معلوم نہیں کہ دھماکا کس چیز کا ہے، پولیس  دھماکےکی نوعیت کا تعین کر رہی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا بس کے اندر اس وقت ہوا جب وہ اسٹینڈ پر آکر رکی ، زخمیوں کو نزدیکی اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

تاہم اب تک چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جنہیں ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔

قابض بھارتی فوج کی سختیوں کے سبب علاقے میں کرفیو کا سماں ہے اور میڈیا رپورٹرز کو بھی بہت سے مقامات تک رسائی نہیں دی جارہی ہے جس کے سبب خبر کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

 دوسری جانب کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیرکے ضلع کپواڑا کے علاقے ہنڈواڑا میں بھارتی فورسزنے سرچ آپریشن کی آڑمیں فائرنگ سے ایک کشمیری نوجوان کوشہید کر دیا، جس کے بعد ضلع بھر میں مظاہرین کی جانب سے بھارتی فورسز کی بربریت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔

بھارتی شہر لکھنؤ میں بھی دو کشمیری نوجوان روزگار کمانے کیلئے سڑک کے کنارے ڈرائی فروٹ بیچ رہے تھے کہ اچانک بی جے پی اور وشوا ہندو دل کے کارکنان نے ان پرحملہ کر دیا۔

انتہا پسندوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور نہتے کشمیریوں پر تھپڑوں اور گھونسوں کی بارش کر دی اور دل نہ بھرا تو انہیں لاٹھی سے مارنا شروع کر دیا اور واپس کشمیر جانے کا کہنے لگے۔

واقعے کے بعد نہایات فخریہ انداز میں کشمیریوں پر تشدد کرنے کی ویڈیوز کو فیس بُک پر لگا کر بزدلانہ کاروائی کے ڈنکے بھی بجائے گئے۔

loading...
loading...