عدالتی فیصلے کو ظالمانہ کہنے کی جرات کیسے ہوئی؟سپریم کورٹ برہم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: نجی اسکولوں کی جانب سے توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ والدین کو توہین آمیز خط کیسے لکھے؟ عدالتی فیصلے کو ظالمانہ کہنے کی جرات کیسے ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق ، پیر کو جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ 3 رکنی بینچ نے نجی اسکولوں کی جانب سے توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ والدین کو توہین آمیز خط کیسے لکھے؟عدالتی فیصلے کو ظالمانہ کہنے کی جرات کیسے ہوئی؟، والدین کولکھے گئے آپ کے خطوط توہین آمیزہیں، آپ کس قسم کی باتیں لکھتے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کے اسکولوں کوبند کردیتے ہیں، ہم آپ کے اسکولوں کو نیشنلائیزبھی کرسکتے ہیں، سرکارکوکہہ دیتے ہیں آپ کے اسکولوں کا انتظام سنبھال لے۔

دوران سماعت نجی اسکول کے وکیل نے معافی طلب کی اور دوبارہ ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی بتایا کہ عدالتی فیصلے پرعمل کرتے ہوئے فیس میں کمی کردی ہے۔

جسٹس گلزار نے تحریری معافی نامہ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ تعلیم کو کاروبار بنالیا ہے،یہ پیسے بنانے کی صنعت ہیں،نجی اسکولوں کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں ،اسکولوں کے پاس سفید یا کالا دھن ہے اس سے متعلق آڈٹ کرا لیتے ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ نجی اسکول والے بچوں کے گھروں میں گھس گئے ہیں، گھروں میں زہر گھول دیا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ نجی اسکول والدین سے ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کا تصور نہیں کرسکتے، والدین بچوں کو لے کرسیرکرانے کہاں جاتے ہیں، یہ پوچھنے والے پرائیویٹ اسکول والے کون ہوتے ہیں۔

بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے نجی اسکولوں سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے توہین عدالت کیس کی سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

loading...
loading...