سانحہ ساہیوال:خلیل اورخاندان بےگناہ تھا ،ایڈیشنل ہوم سیکریٹری

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:سینیٹ انسانی حقوق کی کمیٹی میں ایڈیشنل ہوم سیکریٹری داخلہ پنجاب نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ ساہیوال میں خلیل اورخاندان بے گناہ تھا  ،انسداد دہشتگردی کارروائی کا طریقہ درست نہیں تھا خدشات کے باوجود غلط کیا گیا ۔

بدھ کو اسلام آباد میں سینیٹر نوازکھوکھر کی زیرصدارت سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس ہوا ، ایڈیشنل ہوم سیکریٹری فضیل اصغرنے کمیٹی کو ساہیوال واقعے پر بریفنگ دی ۔

ایڈیشنل ہوم سیکریٹری فضیل اصغرنے بتایاکہ ذیشان کو فیصل آباد آپریشن میں مارے جانے والے دہشتگرد عدیل اورعثمان کے ساتھ دیکھا گیا، عدیل کے موبائل سے ذیشان کی سیلفی ملی اور سم کی لوکیشن بھی ذیشان کے گھرکے سامنے آئی ،جس کے بعد ذیشان پر نظررکھنا شروع کی تاہم19 تاریخ کوگاڑی میں روانہ ہونے کا نہیں پتا چلا ۔

فضیل اصفرنے تسلیم کیا کہ انسداد دہشتگردی کارروائی کا طریقہ درست نہیں تھا ،خدشات کے باوجود غلط کیا گیا ۔

سینیٹرعائشہ رضا نے زندہ گرفتارنہ کرنے پرتشویش کا اظہارکیا جس پرایڈیشنل ہوم سیکریٹری نے جے آئی ٹی رپورٹ کے آنے پرصورتحال واضح ہونے کا مؤقف اپنایا ۔

چیئرمین کمیٹی نے بچے کے بیان سے متعلق سوال کیا تو ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے بچے کے بیان کوشک کا نتیجہ قراردیا ۔

بیرسٹرسیف نے کہا کہ پولیس کوجے آئی ٹی بنانے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے ۔

سینیٹرعثمان کاکڑنے کہاکہ سابق ایس ایس پی ملیرراؤانوار نے بھی دہشتگرد کی ، ریاست نے کوئی کارروائی نہیں کی سابق چیف جسٹس بھی بے بس تھے ،کارروائی ہوتی توساہیوال سانحہ نہیں ہوتا ۔

ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب نے جے آئی ٹی رپورٹ کا نتیجہ بھی بیان کرتے ہوئے  کہا کہ ذیشان دہشتگرد اورباقی کو بے گناہ قرار دیا جائے گا، آپریشن کے طریقہ کارکوغلط قراردیتے ہوئے ذمہ داروں کیخلاف کاروائی تجویزکی جائے گی ۔

loading...
loading...