بنی گالاسیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی عدم منظوری پر سپریم کورٹ برہم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:بنی گالا میں سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران منصوبے  کی منظوری نہ ہونے پرسپریم کورٹ نے اظہار برہمی کیا ۔

جمعے کو جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے بنی گالا میں سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ کیا پراجیکٹ کا پی سی ون کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا؟ ،جس پروکیل نے عدالت کو بتایا کہ تکنیکی ماہرین اس کو دیکھیں گے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ منصوبہ کتنی لاگت میں مکمل ہو گا؟ جس پروکیل نے بتایا کہ منظوری کے بعد منصوبہ 3ارب روپے میں مکمل ہو گا۔

سی ڈی اے کے نمائندے نے بتایا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ منصوبہ کی لاگت 3ارب روپے سے کم کی جائے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ کیا بڑے پراجیکٹ کی بجائے اس کو چھوٹے یونٹس میں نہیں بنا سکتے؟ ۔

نمائندہ سی ڈی اے نے بتایا کہ یہ 3 فیز میں مکمل ہو گا، ایک فیز میں 4یونٹس ہوں گے۔

جسٹس عمرعطاء بندیال نے سوال کیا کہ یہ کب تک منظور ہو گا؟ جس پرسی ڈی اے کے نمائندے نے بتایا کہ اس پر مزید ڈسکشن جاری ہے ای پی سی بورڈ میں گیا تو مزید 6ماہ لگ سکتے ہیں۔

عدالت نے منصوبے کی منظوری نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبہ ابھی تک صرف ڈسکشن تک محدود ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ وہ چاہتے ہیں منصوبہ جلد شروع ہو، کمیٹی میں رہے تو کچھ بھی نہیں ہو، جس پرنمائندہ سی ڈی اے نے بتایا کہ 2ہفتوں میں منظوری لے لیں گے۔

عدالت نے حکم دیا کہ 2ہفتوں میں منصوبے کی پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جائے۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری پلاننگ کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ،کیس پر مزید سماعت 2 ہفتوں بعد ہوگی ۔

loading...
loading...