پانی کااستعمال اورقیمتوں کا تعین کیس : صوبوں  کی رپورٹس  مسترد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پانی کے استعمال اورقیمتوں کے تعین سےمتعلق کیس میں صوبوں اوراسلام آباد کی رپورٹس پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے مسترد کردی ۔

 پیر کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے پانی کے استعمال اور قیمتوں کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔

 ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سمری وزیراعظم اورکابینہ کو بھجوانے کا بتایا توچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پانی سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہوچکا ہے ،منرل واٹرکمپنیوں سمیت دیگرصنعتیں پانی استعمال کررہی ہیں ،صوبوں اور وفاق نے کیا میکینزم بنایا بتایاجائے صنعتیں استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنائیں۔

سیکریٹری لاءاینڈ جسٹس کمیشن نے قیمت اوراستعمال سے متعلق رپورٹ جمع کرواتے ہوئے بتایاکہ اسلام آباد میں 4 کنال اور5 مرلے کے گھرکا پانی کا بل یکساں ہے ۔

 چیف جسٹس نے کہاکہ اربوں کا پانی مفت میں استعمال کرنے دیا گیا باربارکہا پانی کے حوالے سے جنگی بنیادوں پراقدامات کرنے کی ضرورت ہے ،کوئٹہ میں 12 سوفٹ زیر زمین پانی چلا گیا ہے گوادرمیں دستیاب ہی نہیں ۔

عدالت نے صوبوں اوراسلام آباد کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے کہاکہ رپورٹس آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں ،عملی طورپرصوبوں اوراسلام آباد نے کچھ نہیں کیا ۔

سپریم کورٹ نے تمام صوبوں اوروفاق سے لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی شفارشات پرشق وارجواب طلب کرلئے ،سفارشات پراٹھائے جانے والے عملی اقدامات کی رپورٹ بھی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 2ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

loading...
loading...