فوجداری نظام عدل میں اصلاحات کا عندیہ

 

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فوجداری نظام عدل میں اصلاحات کا عندیہ دیدیا۔

اب جھوٹی گواہی دینے والوں کو جیل بھیجیں گے اور جھوٹی گواہی پر سزائیں دینے والے ججوں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی

سپریوم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ مقدمات میں جھوٹی گواہیوں پر برہم ہوگئے،فوجداری مقدمات کی سماعت کے دوران آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ انشا اللہ بہت جلد جھوٹے گواہوں کو سزائیں ہوں گی

ان کا مزید کہنا تھا کہ دو تین جھوٹے گواہان کو عمر قید کی سزا دی تو نظامدرست ہوجائے گا، پنجاب کے ہر مقدمے میں یہی ہوتا ہے، ٹرائل کورٹ پھانسی دیتی ہے، ہائیکورٹ اس سزاکو عمر قید میں بدلتی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جب معاملہ سپریم کورٹ آتا ہے تو ملزم بری ہوجاتا ہے،، پتہ نہیں ان لوگوں کو رات کو نیند کیسے آتی ہے،کیا ان لوگوں کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا، ایسے فیصلہ کرنے والے اللہ سے نہیں بلکہ لوگوں سے ڈرتے ہیں

انہوں نے کہا کیا صرف سپریم کورٹ کے ججوں نے ہی اللہ کو جواب دینا ہے؟ اگر جج انصاف نہیں دے سکتا تو اسے منصفی کی کرسی پر بیٹھنے کا بھی کوئی حق نہیں، ماتحت عدالتوں کو بند کردیتے ہیں ٹرائل سپریم کورٹ خود کر لے گی

loading...
loading...