امریکی وسط مدتی انتخابات: کس کا پلڑا بھاری؟

Untitled-1

واشنگٹن: امریکی کانگریس کے وسط مدتی الیکشن آج ہو رہے ہیں، ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلیکن پارٹی کو برتی حاصل ہے، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن میں ری پبلیکن ایوان نمائندگان کی 435 اور سینیٹ کی 35 میں سے کتنی نشستوں پر کامیابی ملتی ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی کی جیت ہوئی تو امریکی صدر کیلئے کسی بھی قوانین کو منظور کرانا مشکل ہوسکتا ہے۔ 

اس وقت  امریکا میں ری پبلکن کا صدر،سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ری پبلکن کی اکثریت  اور انتظامیہ پر نگرانی کا اختیاربھی ری پبلکن کے پاس ہے۔

لیکن اگر ڈیموکریٹک پارٹی اکثریت حاصل کرلے تو حالات تبدیل ہوجائیں گے، ڈیموکریٹک پارٹی ٹرمپ انتظامیہ کی نگرانی کرے گی، اور قوانین کیلئے منظوری بھی شامل ہوگی۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی کی جیت ہوئی تو امریکی صدر کیلئے کسی بھی قوانین کو منظور کرانا مشکل ہوسکتا ہے۔ 

اس وقت  امریکا میں ری پبلکن کا صدر،سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ری پبلکن کی اکثریت  اور انتظامیہ پر نگرانی کا اختیاربھی ری پبلکن کے پاس ہے۔

لیکن اگر ڈیموکریٹک پارٹی اکثریت حاصل کرلے تو حالات تبدیل ہوجائیں گے، ڈیموکریٹک پارٹی ٹرمپ انتظامیہ کی نگرانی کرے گی، اور قوانین کیلئے منظوری بھی شامل ہوگی۔

انڈیانا پولس میں 5 نومبر کو اَرلی ووٹنگ ہوئی جس کیلئے لمبی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔

بعض جگہوں پر ووٹرز کو دو دو گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔ شکاگو میں ٹرن آؤٹ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔

رائے عامہ کے جائزوں کا کہنا ہے کہ 75 سیٹوں پر کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں اکثریت مل جائے گی۔ لیکن سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلیکن کی اکثریت برقرار رہنے کا امکان ہے۔ امریکی صدر کو ایوان نمائندگان سے قانون سازی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکا کی 36 ریاستوں کے گورنر کیلئے بھی ووٹ ڈالے جانیں گے۔


loading...
loading...