مولانا سمیع الحق کی زندگی پر ایک نظر

-AFP

-AFP

کراچی: مولانا سمیع الحق تمام زندگی دینی تعلیم و تدریس سے وابستہ رہے۔  ان کے حالات زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

عالم دین، استاد اور سیاستدان مولانا سمیع الحق نے اٹھارہ دسمبرانیس سو سینتیس کو آنکھ کھولی، کم عمری میں قرآن پاک حفظ کیا اور درس نظامی بھی بخوبی مکمل کیا۔ جس کے بعد تدریس سے منسلک ہوگئے اور دین کی اشاعت کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔

مولانا سمیع الحق جمعیت علمائے اسلام س کے سربراہ اور جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم تھے۔ وہ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین کے ذمہ داریاں بھی سرانجام دے رہے تھے۔

مولاناسمیع الحق کو افغان طالبان رہنما ملا عمر کے استاد ہونے کی وجہ سے بھی جانا جاتا تھا۔ دوہزار دو میں جب افغانستان پر حملہ ہوا تو اس کے بعد انہوں نے دینی جماعتوں کوایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور متحدہ مجلس عمل کی بنیاد رکھی اور اسی اتحاد پر الیکشن لڑ کر ایوان میں پہنچے لیکن کچھ سالوں بعد انہوں نے اپنی راہیں ایم ایم اے سے جدا کرلیں۔

دوہزار تیرہ الیکشن سے قبل مولانا سمیع الحق نے ایک نئے اتحاد متحدہ دینی محاذ کی بنیاد رکھی اور اسی کے نشان پر انتخابی میدان میں اترے۔مولانا سمیع الحق کے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف سے بھی قریبی تعلقات تھے۔


loading...
loading...