ایک تاریخی غلط فیصلہ اور پہلے وزیراعظم کا قتل

44134997_875184549344175_2556776374698246144_n

تحریر: سفیرالہٰی

 11  ستمبر 1948 پاکستان کی تاریخ  کا وہ سیاہ دن تھا جب بانی پاکستان محترم جناب قائدِ اعظم محمد علی جناح پوری قوم کو آبدیدہ چھوڑ کر جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ لیکن رُخصت ہونے سے قبل انہیں شاید اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کے جانے کے بعد اس ملک کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔

قائدِ اعظم کے انتقال کے فوراً بعد ہی حکومتی ایوانوں میں روایتی سازشوں کا آغاز ہوگیا، سازشوں کے اس اُٹھتے طوفان کو اگر کوئی لگام دے سکتا تھا تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ محترم خان لیاقت علی خان تھے۔ قائد کے انتقال کے بعد لیاقت علی خان وزیر اعظم بنائے گئے ، اس طرح وہ ریاست کے مختارِ کُل ہوگئے اور ریاست کے اہم ترین فیصلے کرنے لگے۔

پاکستان کی قسمت کو ہمیشہ کیلئے تبدیل کرنے والے انہیں فیصلوں میں سے ایک تھا روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں کسی ایک کا اتحادی بننا یا غیر جانبدار رہنا۔ اس وقت اگر پاکستان بھارت کی طرح غیر جانبداری کی پالیسی اپناتا تو ملک کا مستقبل کچھ اور ہوتا، لیکن شومئی قسمت کہ ملک کے اعلیٰ ترین دماغوں نے یہ تاریخی فیصلہ امریکہ کے حق میں کیا۔

ان دنوں لیاقت علی خان کو اس وقت کی سُپر پاور سویت یونین کے رہنما جوزف اسٹالن اور امریکی صدر ہیری ٹرومین دونوں کی طرف سے دعوت ملی، لیکن خان صاحب نے ماسکو کے بجائے واشنگٹن کا رُخ کیا۔ جہاں ان کا پرتپاک استقبال تو ہوا، لیکن دوسری جانب سوویت یونین نے پاکستان سے منہ موڑ لیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے۔

یہی وہ دورہ تھا جس کے باعث پاکستان سرد جنگ اور عالمی سیاست میں شامل ہوکر اپنا وقار اور تشخص کھو بیٹھا۔ اس ایک فیصلے نے ملکی سالمیت اور خودمختاری کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوا کہ پاکستان اپنی آزادانہ خارجہ پالیسی کی روش سے بہک گیا اور عالمی طاقتوں کی انگلیوں پر ناچنے والی ایک کٹھ پتلی بن کر رہ گیا۔

سال 1951 لیاقت علی خان کے دور اقتدار کا آخری سال تھا جو ہنگاموں سے بھرپور تھا۔  اسی سال ملکی تاریخ میں حکومتی تختہ پلٹنے کی پہلی غیر سیاسی کوشش کی گئی، میجر جنرل اکبر خان نے اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کی، جو ناکام رہی اور اس چیپٹر کے تمام کرداروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

تاریخ ہے 16 اکتوبر 1951،مقام ہے راولپنڈی کا کمپنی باغ، ہزاروں کا مجمع، اسٹیج پر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان مسلم لیگ کے جلسے سے خطاب کرنے کیلئے اسٹیج پر آئے۔ خشک لب وا ہوئے اور لاؤڈ اسپیکر پر دو الفاظ گونجے ‘برادران ملّت’۔ ساتھ ہی عوام کے جم غفیر نے اسی اسپیکر پر دو دھماکے سنے۔ یہ دو دھماکے ان دو شعلوں کی آواز تھی جو جلسے کے شرکاء میں کھڑے سید اکبر کی بندوق نے اُگلے تھے، ان شعلوں نے پاکستان کی عظیم ہستی خان لیاقت علی خان کی آواز کو ہمیشہ کیلئے سرد کردیا۔

منظر تبدیل ہو چکا تھا، ہر طرف افرا تفری کا عالم تھا۔ پاکستان کا پہلا وزیر اعظم ہزاروں لوگوں کے سامنے دن دیہاڑے سینے میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔  کہا جاتا ہے کہ لیاقت علی خان کے آخری الفاظ تھے ‘اللہ پاکستان کی حفاظت کرے’۔

لیاقت علی خان کے قتل کا پہلا ثبوت یعنی قاتل کو پولیس نے موقعے پر ہی ہلاک کردیا، یہ وہ لمحہ تھا جس نے لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات کو شدید نقصان پہنچایا۔ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے قتل کو ہی سنجیدگی سے نہ لیا گیا۔ حد تو یہ تھی کہ جب لاہور ہائیکورٹ نے قتل کی فائل پیش کرنے کا حکم دیا تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا جواب تھا ‘ مائی لارڈ! لیاقت علی خان قتل کیس کی فائل گُم ہوگئی ہے’۔

قتل کی تفتیش تو آج تک پوری نہ ہوسکی، لیکن اخباروں میں چھپتا رہا کہ اس قتل کے پیچھے امریکہ اور افغانستان کا ہاتھ تھا۔ ماہرینِ سیاست کا ماننا ہے کہ اگر اس قتل کی تفتیش درست طریقے سے کی جاتی تو آج ملک کے حالات کچھ اور ہوتے۔

لیاقت علی خان کے انتقال کے بعد وزارت عظمیٰ کی کُرسی ایک مذاق بن گئی اور کٹھ پتلی وزیر اعظموں کا ایک نیا تماشہ شروع ہوگیا۔ اس بارے میں آپ کو پھر کبھی بتائیں گے۔ فی الحال آج کیلئے اتنا ہی۔

اگر آپ جاننے چاہتے ہیں کہ اس سے آگے پاکستان میں کیا دلچسپ واقعات رونما ہوئے تو ہمیں نیچے کمنٹ بکس میں ضرور بتائیں۔

 نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے ہے،  ادارے کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔   

loading...
loading...