خوشقجی کے قتل پر صدر اردوان کے تہلکہ خیز انکشافات

File Photo

File Photo

انقرہ: تُرک صدر رجب طیب اردغان کا کہنا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشُقجی دستاویزات کیلئے استنبول میں سعودی قونصلیٹ گئے تھے۔

ترک صدر نے انکشاف کیا کہ جمال خاشقجی کا قتل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، سعودی عرب سے 3 افراد ایک روز قبل استنبول پہنچے۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے سے قبل سعودی قونصلیت کے کیمرے ہٹا دیئے گئے تھے۔ 2 سعودی ٹیمیں خاشقجی کےقتل میں ملوث تھیں۔

ترک صدر طیب اردغان کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کےقتل کی مکمل تحقیقات کریں گے۔ صحافی جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانےمیں قتل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی سعودی قونصل خانے گئے واپس نہیں آئے۔

اس سے قبل ترکی میں قتل ہوئے صحافی جمال خوشقجی کی لاش تو نہیں مل سکی۔ لیکن تحقیقات کی کڑیاں درست سمت میں  ملنے لگیں۔ سی این این نے تہلکہ خیز وڈیو جاری کردی۔

وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ استنبول میں سعودی قونصل خانے میں خوشقجی کے قتل کے بعد ایک شخص خوشقجی کا بھیس بدل کر نکلا۔ وہ شخص کون تھا؟

جمال خوشقجی کےقتل کی تفتیش کوانجام تک پہنچانے کیلئے ترک سراغ رسانوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔

امریکی ٹی وی سی این این نے ترک ذرائع سے ملنے والی تہلکہ خیز وڈیو جاری کی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ قونصلیٹ سے ایک شخص جمال خوشقجی کے بھیس میں باہر آیا۔

وہی کوٹ، وہی پینٹ، داڑھی نقلی لیکن بالکل خوشقجی جیسی۔ تاہم اس کےجوتوں نے بھانڈا پھوڑ دیا۔

سی این این نے ترک زرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ خوشقجی کے بھیس میں نکلنے والا شخص اُس پندرہ رکنی سعودی ٹیم کا رکن تھا، جس نے خوشقجی کو ہلاک کیا۔

نقلی خوشقجی شہر کے مختلف مقامات سے گزرا، اس کے ہمراہ ایک ساتھی بھی تھا۔ دونوں افراد ایک پارک میں بھی گئے، جہاں اس شخص نے خوشقجی کا کوٹ اتار کر ہاتھ میں لے لیا۔

ملزمان ایک ریسٹورینٹ بھی پہنچے اور پھر ایک عمارت کی لفٹ میں چڑھتے دکھائی دیئے۔

دوسری طرف ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش پرکسی کو اثرانداز ہونے نہیں دیا جائے گا۔ سچ سامنے لائیں گے۔

ترک اداروں کی تفتیش بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ سعودی سفارتی عملے کے بعض ارکان سے پوچھ گچھ بھی کی گئی ہے۔

جمال خوشقجی کی ہلاکت کا معاملہ عالمی اہمیت اختیار کرگیا

انقرہ: ترکی میں سعودی سفارت خانے میں معروف صحافی جمال خوشقجی کی ہلاکت کا معاملہ عالمی اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے، برطانیہ نے بھی قتل میں ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کردیا۔

خوشقجی کی ہلاکت پرعالمی برادری کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ برطانوی وزیر ڈومینک راب نے قتل کی تحقیقات کیلئے ترکی کے اقدامات کی حمایت کردی اور کہا کہ برطانیہ مکمل تفصیلات کا منتظر ہے۔

فرانس کے وزیر خزانہ برونولی مائیرے کا کہنا ہے کہ سچائی کو سامنے لایا جائے۔ جبکہ جرمن چانسلر اینگلا مرکل بھی تحقیقات کا مطالبہ کرچکی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جمال خوشقجی کا قتل ناقابل برداشت ہے، تاہم امریکا سے معاہدے برقرار رہیں گے۔

جمال خوشقجی چند روز قبل ترکی میں سعودی قونصلیٹ میں داخل ہوئے اور لاپتا ہوگئے تھے، تاہم بعد میں سعودی عرب نے ہاتھا پائی کے دوران خوشقجی کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

ہلاکت میں ملوث ہونے کے الزام میں سعودی حکومت کے پانچ اعلیٰ عہدیداران کو برطرف اور اٹھارہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

loading...
loading...