عام انتخابات 2018 دھاندلی: تحقیقات کیلئے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم

Untitled-1
اسلام آباد: عام انتخابات دو ہزار اٹھارہ میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے تیس رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی میں دس اراکین سینیٹ اور بیس قومی اسمبلی سے لیے گئے ہیں۔

30 رکنی پارلیمانی کمیٹی میں 10 ارکان سینیٹ اور 20  قومی اسمبلی سے لیے گئے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کو برابر کی نمائندگی دی گئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایاز صادق، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ ، رانا تنویر اور مرتضی جاوید عباسی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

دیگر ارکان میں اعظم سواتی، بیرسٹرفروغ  نسیم،  بیرسٹر سیف، خوش بخت شجاعت، نعمان وزیر، خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، رضا ربانی، رحمان ملک، عثمان کاکڑ اور سینیٹر کلثوم پروین شامل ہیں۔

سردار اختر مینگل اور جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالواسع بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

  تحریک انصاف کی طرف سے پرویز خٹک، شفقت محمود، شیری مزاری، فواد احمد، اعظم سواتی،عامر ڈوگر شامل ہیں۔ ق لیگ کی طرف سے طارق بشیر چیمہ کمیٹی میں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر 18 ستمبر کو وزیر خارجہ اور تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا تھا۔



loading...
loading...