چیف جسٹس نےلاہورہائیکورٹ کی کارکردگی پرسوالات اٹھادیئے

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: چیف جسٹس  آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے لاہورہائیکورٹ کی کارکردگی پرسوالات اٹھادیئے۔

جمعے کو سپریم کورٹ میں مختلف مقدمات کی سماعت کےدوران چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ اپنی ذمہ داری اداکرنےمیں ناکام نظرآ رہی ہے،لوگ کہہ رہےہیں کہ عدالتوں میں کام نہیں ہورہا،کیاہائیکورٹ نےماتحت عدلیہ میں زیرالتوامقدمات کاجائزہ لیا؟۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ملک سےسفارش کی بیماری کوختم کرنا ہے، کل ٹرسٹ اراضی کیس میں مظفرگڑھ کےسول جج پیش ہوئے۔

جج نےبتایاکہ ایک ماہ میں صرف 22 مقدمات کا فیصلہ کیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیاہائیکورٹ نےاس جج سےبازپرس کی؟۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم روزانہ 22 مقدمات کے فیصلےکرتےہیں، صرف کمرہ عدالت نمبر1سے7ہزار مقدمات نمٹاچکےہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مراعات، گاڑی کا توسب مطالبہ کرتے ہیں،اب یہ بتائیں کہ کس نے کتنا کام کیا، جوجج کام نہیں کررہے انہیں کام کرنا ہوگا،اب کسی کے ساتھ رعایت نہیں ہوں گی۔

loading...
loading...