فیصل ایدھی نے خاتون کا ہراساں کرنے کا الزام مسترد کردیا

faisaledhiimage

معروف فلاحی رہنما عبدالستار ایدھی نے  خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام مسترد کردیا ہے۔

عروج ضیاء نامی ایک خاتون نے ٹوئیٹر پر بیان دیا تھا کہ ان کو فیصل ایدھی کی جانب سے ہراساں کیا گیا تھا، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ بائیس سے تئیس سال کی تھی۔

ٹوئیٹر اکاونٹ پر واقعے کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ فیصل ایدھی سے ایک جماعت کی فنڈنگ کے سلسلے میں ملی تھیں جس کے بعد فیصل ایدھی نے نہ صرف ان کو ڈراپ کرنے کیلئے گاڑی میں لفٹ دی بلکہ علیک سلیک بڑھاتے ہوئے فون نمبر بھی لیا۔

   

تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ حتی کہ فیصل ایدھی نے ایک لندن کے دورے کے دوران بھی ان کو فون پر پیغامات بھیجے۔

 

  عروج ضیاء نامی خاتون نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد فیصل ایدھی نے ان کو آدھی رات کو بھی فون پر میسجز کرنے شروع کردیئے اور یہ سلسلہ کچھ دنوں تک جاری بھی رہا تاہم ایک رات فیصل ایدھی نے فون میسجز میں کچھ الفاظ استمال کیے جو ان کو نامناسب لگے اور ان الفاظ سے ان کو شدید جھٹکا بھی لگا۔  

عروض ضیاء کا اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ پر کہنا تھا کہ فیصل ایدھی کے میسجز کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک انہوں نے اپنا فون نمبر تبدیل نہیں کرلیا۔

عروج ضیاء کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے متعلق ان کے شوہر بھی لاعلم نہیں ہیں۔

ادھر فیصل ایدھی نے اس حوالے سے قطعی طور پر تردید کردی ہے۔ فیصل ایدھی نے ہراساں کرنے کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس خاتون کو جانتے تک نہیں ہیں۔

loading...
loading...