کئی ممالک صرف 12 سال میں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے

Untitled-1

دنیا کے پاس صرف بارہ سال باقی رہ گئے ہیں۔ ماحول کو بہتر بنالیں ورنہ کئی ممالک صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے .یہ دل دہلا دینے والا انکشاف عالمی ادارے کی ماحولیاتی آلودگی سے متعلق رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو کئی علاقوں میں زراعت ختم اور  قحط سالی کا سامنا ہوگا۔  پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش ماحولیاتی آلودگی میں سرفہرست ہیں، جہاں گزشتہ سالوں میں ہیٹ ویوز سے ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

ماحول دوست درختوں کی کٹائی، دھواں اُگلتے کارخانوں کا اضافہ،

آگ برساتا سورج اور تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز کے باعث دنیا بھر پر ہیٹ ویوزاور تباہی خیز طوفانوں کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔

ماہرین نے درجہ حرارت بڑھنے کو خطرناک قرار دیا، عالمی ماہرین نے خبردار کردیا کہ دنیا بھر کا اوسطاً درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جو انسانی بقا کیلئے خطرناک ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی سے بچنے کا وقت تیزی سے گزررہا ہے۔ درجہ حرارت کو ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کیلئے غیر معمولی تبدیلیاں ضروری ہیں۔

صنعتوں کے ارتقا اور خطرناک گیسوں کے اخراج سے ماحول خطرات لاحق ہیں۔ دیگر ممالک کی نسبت بھارت،پاکستان اور بنگلہ 

سخت ہیٹ ویوز کے ریڈار میں ہے۔ جہاں پہلے ہی ہزاروں افراد ہیٹ ویوز کے باعث جانیں گنواچکے ہیں۔

یہی نہیں گلیشیئر پگھلنے اور سمندری طوفانوں کے پیشِ نظر عالمی ماہرین نے بنگلہ دیش کے صفحہ ہستی سے مٹنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ 

عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق چند سالوں میں گلیشیئر پگھلنے کے باعث چھوٹے جزیرے بھی سمندر برد ہوجائیں گے۔ جس سے بچاؤ کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

خطرناک ماحولیاتی تبدیلی غذائی قلت پیدا کرنے لگی ہے، بیشتر ممالک میں تین سال کے دوران زرعی پیداوار انتہائی کم ہوگئی ہے جس کے باعث ہر نو میں سے ایک شخص غذائی قلت کا شکار ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا زراعت پر منفی اثر ہونے لگا ہے۔ دنیا بھر میں زرعی پیداوار کم بھوک بڑھنے لگی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق دنیا بھر میں بیاسی کروڑ دس لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار ہی۔

 اقوام متحدہ کے دو ہزار تیس تک بھوک مٹاؤ مشن پر بھی اثر انداز ہوا۔ زیادہ تر ممالک کی زمین موسمیاتی تبدیلی کے باعث کاشتکاری کیلئے سازگار نہیں رہی جس کی وجہ سے غذائی قلت میں اضافہ اور بچوں کیلئے بیماریوں کی شرح بھی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

دو ہزار سترہ میں پانچ سے دس سال کی عمر کے تقریباً پندرہ کروڑ دس لاکھ بچے اپنی عمر کے حساب سے نشوونما نہیں پاسکے۔ جو انتہائی خطرناک ہے۔ ایسے بچوں کی زیادہ تر تعداد افریقا میں پائی گئی۔

 موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے، انٹرنیشنل پینل آن کلائمٹ چینج کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن دس ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور واقعات سے گزررہا ہے جن میں سیلاب، خشک سالی، طوفان، شدید بارشیں اور گرم درجہ حرارت شامل ہیں۔

گزشتہ کئی برسوں سے اوسط عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ اور دیگر زہریلی گیسز کی بڑھتی ہوئی مقدار کو قرار دیا جا رہا ہے۔

loading...
loading...