نواز شریف،مریم نواز،کیپٹن (ر)صفدر کی سزا معطل ، رہا کرنے کا حکم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

بدھ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2رکنی بینچ نے نواز شریف، مریم اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب اکرم قریشی نے اپنے دلائل مکمل کئے تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے مختصر جوابی دلائل دیئے جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا،جو 3بجے سنایا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے3 بجتے ہی فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزائیں  معطل کردیں اور تینوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نےمختصر فیصلے میں قرار دیا کہ احتساب عدالت کا فیصلہ اور سزائیں معطل کی جاتی ہیں جس کی  وجوہات بعد میں تفصیلی فیصلے میں دی جائیں گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مجرمان کو 5، 5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

آج دوران سماعت ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ نیب لندن فلیٹس سے نواز شریف کے تعلق کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا لیکن پراسیکیوٹر نیب کہہ رہے ہیں کہ ہم یہ فرض کر لیں کہ فلیٹس نواز شریف کے ہیں۔

جسٹس گل حسن اورنگزیب نے پراسیکیوٹر نیب سے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ نواز شریف نے مریم کے نام فلیٹس بنائے؟جس پرپراسیکیوٹر نیب اکرم قریشی نے کہا کہ جی، نواز شریف فلیٹس کے اصل مالک تھے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تو پھر نواز شریف کی ملکیت کا کوئی ثبوت بتادیں، ہم کیسے فرض کریں جب آپ کی تفتیش کے بعد بھی نواز شریف کا فلیٹس سے تعلق نہیں بن پارہا، نواز شریف تو کہیں بھی نظر نہیں آرہا، آپ تفتیش سے نواز شریف کا تعلق نہیں جوڑ سکے تو ہم فرض کیسے کر لیں، کیا ہم فرض کرلیں کہ بچے چھوٹے ہیں تو مالک والد ہوگا؟۔

اکرم قریشی نے کہا کہ بار ثبوت مجرموں پر تھا کہ وہ بتائیں فلیٹس کیسے بنائے، والد کو بچانے کیلئے مریم نواز نے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ تیار کی، قانون کہتا ہے کہ جب فلیٹس ان کے قبضے میں تھے تو وہ ملکیت بتائیں، جب بچے کم عمر تھے تو فلیٹس کے مالک نواز شریف ہیں۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ کا موقف ہے کہ 1993 میں نواز شریف نے لندن فلیٹس خریدے، آپ کا کیس ہے کہ مالک مریم نواز نہیں بلکہ نواز شریف ہیں، تو مریم نواز پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس کیسے بن گیا؟۔

جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے اگر اثاثے چھپائے گئے تو اثاثے بنانے میں سزا کیسے ہوئی ؟ ۔

جس پرپراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ بچوں کی آمدن کے ذرائع بن نہیں رہے تھے تو مریم نواز نے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ بنائی، نواز شریف کو بچانے کیلئے مریم نواز نے یہ جعلی معاہدہ بنایا، مریم نواز نے نیلسن اور نیسکول کی ملکیت تبدیل کر کے والد کی ملکیت چھپائی۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آگے چلیں، یہ تو مفروضوں پر مبنی ہے، فرض کر لیتے ہیں کہ نواز شریف نے فلیٹس خریدے، تو مریم اور نواز شریف دونوں مالک کیسے ہو سکتے ہیں، فرض کر لیں کہ مریم نواز نے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ جے آئی ٹی اور احتساب عدالت میں جمع کرائی، اگر جرم جعلی ٹرسٹ ڈیڈ ہے تو اسے آمدن سے زائد اثاثے بنانے پر سزا کیسے ہوئی؟۔

پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ آپ سارے سوالات مجھ سے ہی پوچھ رہے ہیں، کچھ سوالات نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے بھی پوچھ لیں۔

اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ سے یہ سوالات اس لئے پوچھ رہے ہیں کہ آپ نے یہ تمام کہانی بنائی، آپ نے کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا جس سے نواز شریف کا دور سے کوئی تعلق بنے۔

 

loading...
loading...