بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے )کو بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیداد وں سے متعلق رپورٹ 15روز میں پیش کرنے کی ہدایت دے دی۔

 بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

 اٹارنی جنرل انورمنصورخان کی جانب سے بیرون ملک اکاؤنٹس سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے وزیراعظم سے مشاورت سے متعلق پوچھاتواٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے منی لانڈرنگ روکنے کیلئے ٹاسک فورس بنا دی ہے اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستانی اشیا ءنہیں ملتی مگرغیرملکی مصنوعات ہرجگہ مل جاتی ہیں ،اسمگلنگ سے معیشت تباہ ہورہی ہے ۔

جسٹس ثاقب نثار نے گورنراسٹیٹ بینک طارق باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اسٹیٹ بینک سے بہت امیدیں وابسطہ ہیں تاہم جونتائج چاہ رہے تھے وہ نہیں مل رہے ۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہاکہ 1947 کے بعد اب پہلی بارتبدیلی آرہی ہے بیرون ملک لوٹی رقوم کی واپسی کیلئے قانون سازی اورترامیم بھی کی جارہی ہیں ،جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے تمام پیشرفت کو کاغذی قراردیا ۔

ڈی جی ایف آئی اے نے بتایاکہ دبئی میں 2700 پاکستانیوں کی جائیدادوں کی ملکیت کی تصدیق ہوچکی ہے،عدالت ایک ماہ کی مہلت دےتورپورٹ پیش کردیں گے ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے  کہ اگرکسی نے ملکی دولت لوٹی ہے توعدالت آرٹیکل 184/3 کے تحت کاروائی کرنے کی مجاز ہے ،میرے مطابق ایک ہزارارب روپے مالیت کی پاکستانیوں کی دبئی میں جائیدادیں ہیں ۔

عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 15 روز میں جائیدادوں کے مالکان کی فہرست دینے کی ہدایت کردی۔

 سپریم کورٹ نے ہنڈی،حوالہ اوراسمگلنگ روکنے سے متعلق کئے گئے اقدامات پرحکومت سے بھی رپورٹ طلب کرتےہوئے سماعت 15 روز کیلئے ملتوی کردی۔

loading...
loading...