قانون سازی سوچ سمجھ کر ہونی چاہئے، جسٹس ثاقب نثار

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جب بھی قانون بنا ہےجلدی کی گئی ،قانون سازی سوچ سمجھ کر ہونی چاہئے۔

جمعے کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نظام انصاف میں بہتری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ درخواست گزار کی تجاویزصوبائی ہائیکورٹس اوربارکونسلزکوبھیجی جائیں،تمام فریقین درخواست گزار کی تجاویز پر رائے دیں۔

ثاقب نثار نے کہا کہ مقدمات میں 50 سال کے بعد ریلیف ملنا کوئی ریلیف نہیں ہوتا،قوانین میں ترامیم عدلیہ کوسہولت دینے کیلئے ہونی چاہیئے، ایسی ترامیم نہیں ہونی چاہیئےسہولت کے بجائے مسائل پیدا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ یہ ہے کہ نظام انصاف بہتر اور تیز ہو جائے، قانون سازی میں ہمیشہ جلدی کی گئی ،قانون سازی سوچ سمجھ کر ہونی چاہئے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بیرون ممالک ترامیم کیلئے کمیٹیاں بنی ہوتی ہیں۔

 چیف جسٹس نے کہا کہ لاکمیشن نے قانون میں ترامیم کی سفارش کی ہے،آئندہ سماعت پروفاقی وزیرقانون بھی عدالت تشریف لائیں، نظام انصاف میں بہتری کیلئے اپنی تجاویزدیں، میرے پاس وقت کم ہونا شروع ہوگیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نوجوانوں کاجذبہ اوربڑوں کاتجربہ ملکرکام کرے توانقلاب لاسکتے ہیں۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے نظام انصاف میں بہتری کیس کی سماعت 2ہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی ۔

loading...
loading...