خیبرپختونخوا کے کسی مدرسے میں کوئی مسئلہ نہیں،پرویز خٹک

pavez

پشاور:وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے میں جنگ ڈکلیر کرکے ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کردیا ، کہتے ہیں پاک افغان بارڈ رسیل کردینا چاہیے ، صوبے میں کرفیو لگا کر گھر گھر تلاشی لی جائے، افغان باشندے واپس نہیں جاسکتے تو انہیں پاکستانی شہریت دی جائے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے آج نیوز کے پروگرام آج رانا مبشر کے ساتھ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صنعت اور کاروبار تباہ ہوچکا ہے، حکومت فضول باتوں میں پڑ گئی ہے کہ یہ کریں اور یہ نہ کریں، اب ڈنڈا اٹھا کر عمل کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا جنگ ڈکلیر کرکے ایمرجنسی لگائی جائے۔ خیبرپختونخوا میں مکمل کرفیو لگا کر گھر گھر تلاشی لی جائے۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا وزیرستان سمیت چار پانچ داخلی مراکز ہیں، کسٹم حکام کا ڈر ہے کہ بارڈرسیل ہوگیا تو اسمگلنگ ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے بارڈز فوری سیل کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا صوبے میں آٹھ سے دس لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان باشندے ہیں۔ افغان واپس نہیں جاتے تو انہیں پاکستانی پاسپورٹ دیا جائے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا وفاقی حکومت نے مالی امداد اور سیکیورٹی فورسز کو جدید سامان حرب دینے کے وعدے پورے نہیں کیے، صوبے کی ایف سی کراچی میں چوکیداری کررہی ہے، چوہدری نثار سے ایف سی کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا خیبرپختونخوا کے کسی مدرسے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر سیکیورٹی ایجنسیاں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں نہ کرتیں تو روز دھماکے ہوتے۔

loading...
loading...