باچا خان یونیورسٹی حملہ ،پانچ دہشتگردوں کی گرفتاری کا دعویٰ

bajwa_image

راولپنڈی :آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے چارسدہ یونیورسٹی پر حملے کے تین سہولت کاروں اور دو معاونین سمیت پانچ افراد گرفتار کرلیے گئے ہیں جبکہ ایک مفرور ہے، ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد افغانستان سے طورخم بارڈر کے ذریعے عام شہریوں کے بھیس میں مردان پہنچے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے چارسدہ حملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ عمر، عثمان، علی محمد اور عابد نامی چار دہشت گردوں کو ذاکر نامی دہشت گرد نے طورخم بارڈر تک پہنچایا، جہاں سے انہیں عام ٹرانسپورٹ سے مردان پہنچایا گیا۔

عاصم باجوہ نے کہا عادل، ریاض، نور اللہ، مرکزی سہولت کار تھے، ایک سہولت کار مفرور ہے، ابراہیم اور ضیا اللہ نے سہولت کاروں کی مدد کی۔ انہوں نے کہا دہشت گردوں کو دو گھروں میں رکھا گیا، ان کیلئے عادل، ریاض اور مفرور سہولت کار نے درہ آدم خیل سے اسلحہ خریدا۔ جسے مفرور کی بیوی اور بھانجی نے لباس میں چھپا کر منتقلی کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عادل نے چارسدہ یونیورسٹی میں مزدوری کی، وہاں کا نقشہ بنایا اور چاروں دہشت گردوں کو بریفنگ دی، نوراللہ نے نئے خریدے گئے رکشے میں دہشت گردوں کو یونیورسٹی کے قریب گنے کے کھیتوں میں اتارا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے۔ اس دوران چودہ ہزار آپریشن کیے گئے، اکیس ہزار مشتبہ افراد گرفتار ہوئے اور مزاحمت پر دوسو دہشت گرد مارے گئے۔

loading...
loading...