کسی کو حق نہیں کہ بچوں کو پیدا ہونے سے پہلے مقروض کردے،چیف جسٹس

فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاہور:چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے ہیں کہ کسی کو حق نہیں کہ بچوں کو پیدا ہونے سے پہلے مقروض کردے۔

پیر کوسپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثے اور اکاؤنٹس کی تفصیلات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے گورنراسٹیٹ بینک اور سیکرٹری خزانہ کے پیش نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے اکاؤنٹس اور اثاثوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات پرعمل درآمد نہیں ہو رہا، ہم مفاد عامہ کا اہم ترین مقدمہ سن رہے ہیں جبکہ گورنراسٹیٹ بینک اورسیکرٹری خزانہ کو پرواہ ہی نہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کون کہتا ہے کہ ہم نے ایمنسٹی اسکیم کو رد کر دیا ہے، یہ معاملہ تو ہمارے سامنے آیا ہی نہیں، سوئٹزر لینڈ میں پڑے پاکستانیوں کے پڑے اربوں کھربوں کے بارے میں کیا کھوج لگایا ہے، پتہ ہونا چاہیے کہ ہر پاکستانی کے بیرون ملک کتنے اثاثے اور اکاؤنٹس ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پچھلی 2 حکومتوں نے کیا کیا، تعلیم، صحت اور پینے کے پانی کا حال دیکھ لیں، زرمبادلہ کو پاکستان سے باہر لے جانے کیلئے کوئی پابندی ہی نہیں لگائی گئی، اربوں کھربوں کا سرمایہ پاکستان سے باہر چلا گیا، برآمدات ختم اور درآمدات بڑھتی جاری ہیں، اسمگلنگ ختم نہیں کرسکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ  پاکستان میں حکومتوں کی غلط پالیسیوں سے ہر نومولود مقروض ہوگیا، قرضے خود لیتے ہیں اور بوجھ ایسے بچوں پر ڈال دیتے ہیں جو پیدا بھی نہیں ہوئے، کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ پیدا ہونے سے پہلے پاکستانی بچے کو مقروض کر دے، بتایا جائے کہ پاکستان کا ہر بچہ کتنا مقروض ہے؟، بتایا جائے کہ 10 سال میں کتنے وزرائے خزانہ نے قرضے لئے اور غیر ملکی دورے کئے۔

loading...
loading...