کرنل جوزف کوسفارتی استثنیٰ حاصل تھااس لئے واپس بھیج دیا گیا،دفترخارجہ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی نوجوان کو گاڑی سے کچلنے والے امریکی سفارتکار کرنل جوزف کو سفارتی استثنیٰ حاصل تھا اس لئے واپس بھیج دیا گیا۔

بھارت نے رواں سال ایک ہزار سے زائد بار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی،بلااشتعال فائرنگ میں 24 شہری شہید ہوئے،دفتر خارجہ میں قائمقام بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرتے بھارتی رویئے کی مذمت کی گئی ۔

بھارت کی کنڑول لائن پر مسلسل خلاف وزریوں پرپاکستان کی شدید مذمت اور احتجاج کے باعث قائمقام بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا گیا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارت نےرواں سال 1000 ہزار بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے،جس کے نتیجے میں  24شہری شہید ہوئے اور 107 سے زائد زخمی ہوئے۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ بھارت کو دوسروں کے معاملات میں مداخلت کی بجائے اپنے داخلی مسائل کے حل پر توجہ دینا چاہیے۔

 ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حریت رہنماؤں نے 19 مئی کو سری نگر کے لال چوک کی جانب مارچ کی کال دی ہے۔

کرنل جوزف کی پاکستان سےروانگی سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ کرنل جوزف کو سفارتی استشنیٰ حاصل تھااور اس لئے وہ واپس چلے گئےتاہم انہیں دیت کے معاملے کا علم نہیں ہے، امریکا نے یقین دہانی کروائی ہے کہ کرنل جوزف پر امریکا میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

ڈاکٹر فیصل  نے فیض احمد فیض کی بیٹی منزہ ہاشمی کو بھارت سے ڈیپورٹ کرنے کو مودی سرکاری کی تنگ نظری قرار دیا۔

ترجمان نے امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی بھرپور مذمت کرتا ہے، امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے پر ترکی نے او آئی سی کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی شرکت کریں گے۔

loading...
loading...