کراچی میں غیرقانونی واٹر ہائیڈرنٹس کیخلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی:سپریم کورٹ کراچی رجسٹری  نے شہر میں غیرقانونی واٹر ہائیڈرنٹس کیخلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔

جمعرات کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں فاضل بینچ نے شہر میں غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس کے خاتمے کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی،ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی عدالت میں پیش ہوئے۔

یم ڈی واٹر بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ شہر سے107غیرقانونی ہائیڈرنٹس ختم کردیئے اور عدالتی حکم پر  شہر میں 6  قانونی ہائیڈرنٹس قائم ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ  اگرغلط بیانی کی گئی تو توہین عدالت کی کارروائی ہوگی اور سزا بھی ملے گی،ایم ڈی صاحب آپ لکھ کر دیں اب کوئی نیا غیرقانونی ہائیڈرنٹس نہیں بنےگا۔

چیف جسٹس نےکہا کہ غیرقانونی واٹر ہائیڈرنٹس کیخلاف کارروائی جاری رکھیں،اگر غیرقانونی کاروبار میں واٹر بورڈ کا عملہ ملوث ہے تو اس کیخلاف بھی کارروائی کریں اورکوتاہی برداشت نہیں کریں گے،جو ہائیڈرنٹس بند ہوگئے اسے بند رہنے دیں کسی کو دوبارہ کام کی اجازت نہیں دیں گے۔

وکیل ہائیڈرنٹس مالکان نے عدالت سے استدعا کی کہ زیر زمین کھارا پانی نکالنے کی اجازت دی جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پانی میٹھا ہو یا کڑوا اسے بند رہنا چاہیے۔

 وکیل نے کہا کہ اس طرح فیکٹریوں کو نقصان ہوگا اور فیکٹریاں بند ہوجائیں گی، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فیکٹریوں کیلئے  ٹینکرز چلانے کی اجازت دے دیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس میں کہا کہ ہم کیس ختم کررہے ہیں سپریم کورٹ کو غیر ضروری کیسز کے بوجھ تلے تباہ نہیں کرسکتے، ہمارا کام حکومت کرنا نہیں، یہ کام حکمرانوں کو کرنے دیں۔

عدالت نے واٹر ہائیڈرنٹس سے متعلق از خود نوٹس کیس نمٹاتے ہوئے انتظامیہ کو شہر میں غیرقانونی واٹر ہائیڈرنٹس کیخلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔