چین میں پھنسنے والے پاکستانیوں کو فی کس ایک لاکھ روپے ہرجانہ دینے کا حکم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نےنجی ایئرلائن کو چین میں پھنسنے والے پاکستانیوں کو فی کس ایک لاکھ روپے ہرجانہ دینے کا حکم دے دیا۔

منگل کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عمر عطاء بندیال پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے چین میں پھنسے مسافروں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی،سی ای او نجی  ائیر لائن احسان صہبائی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ متاثرین کو کیا ہرجانہ ادا کرینگے؟ کیوں کہ متاثرین کو امداد کی فراہمی تک آپ باہر نہیں جائیں گے، آپ کا نام ای سی ایل میں شامل کریں گے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں بیان دیا کہ شاہین ایئر لائین اربوں روپے کی نادہندہ ہے اور اس نے ایک روپیہ بھی ادا نہیں کیا۔

جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ شاہین ایئر لائن کو فلائٹ آپریشن معطل کرنے کی وارننگ دی گئی تھی، لیکن اپنے رویئے کی وجہ سے اسے چین والے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ  مسافروں کو شدید ذہنی تکلیف ہوئی ہے، مسافروں کے اخراجات بھی شاہین ائیر لائن کو ادا کرنا ہوں گے ،مسافروں کو کتنی امدادی رقم دیں گے؟جس پر سی ای او احسان صہبائی نے کہا کہ  ہم 50 لاکھ روپے ادا کرسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 3دن ائیرپورٹ پر بیٹھا غیر معمولی اذیت ہے، مسافروں کو فی کس ایک ایک لاکھ روپے ادا کرنے چاہئیں کیونکہ کئی مسافروں نے ادھار لئےاور بعض اخراجات سفارتخانے نے بھی کئے۔

ایئرلائن کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ 3 دن تک مسافروں کے تمام اخراجات شاہین ائیر لائن نے اٹھائے، اصل مسئلہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ہے، آپ سے التجا ہے ایوی ایشن انڈسٹری کا کچھ کریں۔

چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ  ایوی ایشن کے معاملات دیکھ رہے ہیں، سول ایوی ایشن کیساتھ تنازعات سے تحریری طور پر آگاہ کریں،عدالت نے کیس کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کردی۔

loading...
loading...