چیف جسٹس کانواز شریف اورمریم نواز کی تقاریر پر پابندی کے فیصلے پرازخود نوٹس

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر پابندی کے فیصلے پر ازخود نوٹس لے لیا ۔

منگل کو چیف جسٹس کی جانب سے لاہورہائیکورٹ کے نوازشریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر پابندی کے فیصلے کا نوٹس لیا گیا۔

چیف جسٹس  نے حکم دیا کہ کیس کو آج ہی سماعت کیلئے مقرر کیا جائے جبکہ پیمرا اورسیکریٹری اطلاعات کونوٹس جاری کرتے ہوئے ایک بجے عدالت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ دن ایک بجے معاملے کی سماعت کرے گا۔

جسٹس ثاقب نثار نے لاہورہائیکورٹ سے تمام مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائزہ لیں گے کیا پابندی آزادی اظہاررائے کے منافی تو نہیں۔

گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہرعلی اکبرنقوی کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے نوازشریف اورمریم نوازکی عدلیہ مخالف تقریرپرپیمرا کو حکم دیا تھاکہ نوازشریف اورمریم نوازسمیت لیگی رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریرکیخلاف درخواستوں پر15روز کے اندرفیصلہ کرے اور عدلیہ مخالف اورتضحیک آمیزتقاریرسمیت توہین عدالت پرمبنی کوئی بھی مواد نشرنہ ہو ۔

جسٹس مظاہرنقوی نے ریمارکس دیئےتھے کہ عوامی نمائدے اسمبلی میں جج پر تنقید نہیں کرسکتے تو جلسے میں کیسے ہوسکتی ہے ۔