چترال: ایک اور طالب علم کی خودکشی، لیکن وجہ؟

Untitled-1

چترال: امتحانی نتائج میں کم نمبر آنے پر دلبرداشتہ ہوکر چترال کے ایک اور طالب علم نے خود کشی کرلی ہے۔

پولیس ذرائع کی ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق طالب علم  کے دو قریبی دوست اسکالر شپ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے، جبکہ وہ ٹیسٹ میں کم نمبر آنے پر اسکالر شپ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ جس کے بعد اس نے اپنے امتحانی نتائج موصول ہونے کے بعد دلبرداشتہ ہو کر خود کو گولی مارلی۔

دو روز قبل چترال ہی کے علاقے میں دو لڑکیوں اور ایک لڑکے نے ایف ایس سی کے نتائج میں کم نمبر آنے پر دلبرداشتہ ہوکر خود کشی کرلی تھی۔

ایک طالبہ کی لاش تلاش کرلی گئی ہے، جبکہ دوسری طالبہ کی لاش نہیں مل سکی۔ لڑکے نے خود کو گولی مارلی تھی اور اسے شدید زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

تاہم تینوں واقعات میں خاندانوں کی جانب سے یہ سمجھا گیا تھا کہ طلباء نتائج کی وجہ سے دلبراشتہ ہوگئے تھے اور تنگ آکر انہوں نے خودکشی کرلی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان حادثات کی ہرممکن تحقیقات کریں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کریں گے لیکن تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

چترال میں واقع سول آرگنائزیشن ہیومن رائٹس پروگرام کے چیئرمین نیاز نیازی کے مطابق پولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث خودکشی کے کئی کیسز درج نہیں کیے جاتے۔

انہوں نے بتایا کہ چترال میں سالانہ 40 سے 45 افراد خودسوزی کرتے ہیں، رواں سال 2018 میں 20 افراد اپنی جان لے چکےہیں۔

نیاز نیازی کا کہنا تھا کہ اکثر کیسز میں مقامی افراد اور ان کے عزیز و اقارب علاقے کی روایات کے باعث مقدمہ درج نہیں کرواتے اور نہ ہی پولیس ان مقدمات کی تفتیش کرتی ہے۔

loading...
loading...