ملک میں 70 سال سے جاری مائنس پلس کو ختم کرنا ہوگا،نوا زشریف

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کوئٹہ :سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں 70 سال سے جاری مائنس پلس کو ختم کرنا ہوگا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کوئٹہ میں پشتونخوا میپ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا نیا پاکستان کیا بنتا وہ تو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوگیا، کرکٹر لاہور میں بننے والی میٹرو بس کو جنگلہ بس کہتا تھا، مگر اب خود پشاور میں میٹرو بس بنارہا ہے جو 4 سال سے مکمل نہیں ہوئی، کرکٹر خان پشاور میٹرو تک نہ بناسکا جب کہ ہم نے اسلام آباد، ملتان اور لاہور میں میٹرو بس بنادی اور اب کوئٹہ میں بھی بنائیں گے، خیبرپختون خوا ہمارے ساتھ ہے اور 2018 کے الیکشن میں ناچنے گانے والے فارغ ہوجائیں گے۔

نواز شریف نے کہا کہ کسی نے ملک میں اندھیرے پیدا کرنے والوں کو پوچھا، چار سال پہلے ہر طرف بلوے، احتجاج ہوتے تھے، ان کا حساب تو لو، احتساب کے نام پر نواز شریف سے انتقام لیتے ہو، 4 سال میں میرے خلاف کرپشن کا کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا اور ایک پیسے کی بدعنوانی نہیں کی۔

 اس کے باوجود سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ نواز شریف اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر صادق و امین نہیں رہا، لیکن کوئٹہ کے عوام نے اعلان کردیا کہ انہیں یہ فیصلہ منظور نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  صادق و امین کا فیصلہ کرنے والے ججز ہمیشہ آمروں سے پی سی او کے تحت حلف اٹھاتے رہے، 6 بہترین ہیرے تلاش کئے گئے اور پاناما لیکس کی جے آئی ٹی بنائی گئی، ایک ہی بینچ نے بار بار فیصلے کئے، کبھی 2 کبھی 3 اور کبھی 5 ججوں نے، شاید ہی ملکی تاریخ میں کبھی ایسا واقعہ ہوا ہو۔

سابق وزیراعظم  نے کہا کہ آج تک کسی نے پوچھا ان سے جو ملک میں اندھیرے پھیلا کر چلے گئے ، منتخب وزیراعظم کو کیسے بے دخل کیا جاسکتا ہے، جب مائنس ون کیلئے کوئی بہانہ نہ ملا تو بیٹے سے تنخواہ کے بہانے پر فارغ کردیا، ملک ایسے ہی فیصلوں سے برباد ہوجاتے ہیں، انتشار اور افراتفری پیدا ہوتی ہے اور منزل کھوٹی ہوجاتی ہے، وہ کیا مائنس ون ہوگا جسے عوام پلس ون کردیں، ملک کو اندھیرے میں ڈبونے والوں کو کسی نہیں پکڑا جب کہ صادق و امین کا فیصلہ کرنے والوں نے پی سی او کے تحت آمروں سے حلف اٹھایا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت ووٹ سے آنی اور جانی چاہیے، کروڑوں عوام جسے وزیراعظم منتخب کریں اسے پانچ لوگ فارغ کردیتے ہیں، 70 سال سے مائنس پلس چل رہا ہے جسے اب ختم کرنا ہوگا، لیکن اب 2018 میں عوام کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا جسے عوام کے سوا کوئی تبدیل نہ کرسکے، ایسا مضبوط فیصلہ جسے مارشل لا یا چار پانچ لوگ تبدیل نہ کرسکیں۔

انہوں نے مزید  کہا کہ میرا عوام سے بہت مضبوط تعلق ہے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور (ن) لیگ  متحد اور نظریاتی رشتے میں منسلک ہیں، محمود خان اچکزئی سے نظریاتی وابستگی اور تعلق ہے، جبکہ میں نظریئے سے کبھی دستبردار نہیں ہوتا۔