پائلٹس جعلی ڈگری کیس:سپریم کورٹ کا ایئربلیو اور شاہین ایئرلائن کوجرمانہ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی:سپریم کورٹ نے پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے کیس میں تصدیق نہ کرانے پرشدید برہمی کا اظہار کرتےہوئےایئربلیوکو 50ہزار روپے اور شاہین ایئر لائن کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کردیا۔

ہفتے کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پی آئی اے کی نجکاری اورپائلٹس کی جعلی ڈگریوں کی تصدیق سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، ایم ڈی ایئر بلیو جنید خان عدالت میں پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ نے تفصیلی رپورٹ کیلئے سول ایوی ایشن اورپی آئی اے کو ایک ہفتہ کی مہلت دے دی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا بتایا جائے کہ آپ کے پاس کتنے پائلٹس ہیں، ایم ڈی ایئربلیو نے جواب دیتے ہوئے کہا ہمارے پاس 101 پائلٹس جبکہ 251 افراد پر مشتمل عملہ ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے جعلی ڈگریوں کی تصدیق میں تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک پائلٹس کی ڈگریوں کی تصدیق کیوں نہیں ہوئی؟۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا ائیربلیوکاچیف ایگزیکٹو کون ہے،ایم ڈی ایئر بلیو نے کہا کہ وزیراعظم کوطلب کرنے سے متعلق بریکنگ نیوزچل رہی تھی کہ شاہدخاقان عباسی ایئربلیوکےسربراہ ہیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سیاسی آدمی ہیں، سیاسی لوگوں کی بریکنگ چلتی رہتی ہے، ہم نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب نہیں کیا۔

سپریم کورٹ نے  ایئربلیو کو 50ہزار روپے اور شاہین ایئر لائن کو 1لاکھ روپے جرمانہ کردیا۔

عدالت میں پی آئی اے کے ملازمین کو تنخواہ نہ ملنے سے متعلق کیس کی بھی سماعت ہوئی،سماعت میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مشرف رسول سیال عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی تنخواہ 20 لاکھ سے زیادہ ہوگی، غریبوں کو کیوں تنخواہ نہیں دیتے؟۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کے استفسار پر مشرف عسول نے بتایا کہ ہمارے پاس 32 ایئر کرافٹ اور 498 پائلٹ ہیں۔

ان کےمطابق 369 پائلٹوں کی ڈگریوں کی تصدیق ہوچکی جبکہ 39 پائلٹوں نے ڈگریوں سے متعلق حکم امتناع لے رکھا ہے۔

چیف جسٹس نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو پائلٹس کی ڈگری کی تصدیق سے متعلق حتمی رپورٹ شام 4 بجے تک پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

loading...
loading...