ٹی وی پر ایسے شوز دکھائے جارہے ہیں جو ناقابل قبول ہیں،چیف جسٹس

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی:چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ٹی وی پر ایسے شوز دکھائے جارہے ہیں جو ناقابل قبول ہیں۔

ہفتے کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثارکی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پاکستانی نجی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،پاکستانی  فنکار عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے میرے منہ کی بات چھین لی ہے، ٹی وی پر ایسے ایوارڈ شوز دکھائے جارہے ہیں جو مسلم معاشرے کیلئے ناقابلِ قبول ہیں، ہم سب لبرل ہیں مگر غیر مناسب لباس پر ماڈلنگ کی اجازت نہیں دے سکتے، اگر آپ برقعے کی حمایت نہیں کرتے تو اخلاق باختہ لباس کی بھی اجازت نہیں دے سکتے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کیا ہماری بہن، بیٹیاں یہ لباس پہن سکتی ہیں، کیا آپ کے ملک کا کلچر ختم ہو گیا، سندھ، بلوچی ودیگر کلچر کو فروغ کیوں نہیں دیتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے زیادہ غیر اخلاقی پروگرام ایک نجی ٹی وی چلا رہا ہے، یہ ٹی وی کس کا ہے؟، اس چینل پر اخلاق باختہ پروگرام دکھائے جارہے ہیں۔

چیف جسٹس نے فنکار عدنان صدیقی، فیصل قریشی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو خود مارننگ شو کرتے ہیں، ان مارننگ شوز میں خواتین کو کون سا لباس پہنواتے ہیں،  یہ کون سے مارننگ شوز ہیں، کون سا کلچر دینا چاہ رہے ہیں، میں نہیں کہہ رہا کہ برقعہ پہن کر آجائیں مگر بے حیائی بھی برداشت نہیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا ہمیں طے کرنا ہوگا کہ کتنا غیر ملکی مواد نشر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، آپ کوئی تحریری درخواست دیں، عدالت کارروائی کرے گی۔

سپریم کورٹ نے فنکاروں سے 3 بجے تک تحریری درخواست طلب کرلی۔

loading...
loading...