نوجوان انتظاراحمد صدیقی کا قتل معمہ بن گیا

Untitled-2

کراچی: کراچی کے نوجوان انتظاراحمد صدیقی کا قتل معمہ بن گیا۔ والدین نے الزام لگایا کہ بیٹے کو بااثر افراد کی بگڑی اولاد نے قتل کیا۔ بیٹے کی کچھ روز دو لڑکوں سے لڑائی ہوئی تھی۔

ڈی آئی جی سی آئی اے کہتے ہیں کہ فائرنگ اہلکاروں نے گاڑی کو مشکوک سمجھ کر کی، تاہم مزید تحقیقات کررہے ہیں  کہ مقتول کو کس کی گولیاں لگیں۔

تفصیلات کے مطابق  کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان اتحاد میں ایک اورنوجوان  کو گذشتہ روز قتل کردیا گیا۔

مقتول انتظار صدیقی کو کار میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق مقتول کے سر میں تین گولیاں لگیں،جبکہ جائے وقوعہ سے گولیوں کے سولہ خول ملے۔

انتظار کے والد کے مطابق بیٹے کی کچھ روز قبل فہد اور حیدر سے لڑائی ہوئی تھی۔

عینی شاہد کا کہنا ہے کہ کار میں ایک لڑکی بھی تھی جو فائرنگ کے بعد رکشے میں بیٹھ کر چلی گئی۔

تاہم کیس میں کچھ دیر بعد نیا موڑ آگیا، ڈی آئی جی سی آئی اے ثاقب اسماعیل کا بیان سامنے آیا کہ اس علاقے میں سی آئی اے اہلکاروں نے بھی ایک گاڑی کے نہ رکنے پرمشکوک سمجھ کر فائرنگ کی۔

ڈی جی سی آئی اے  کا کہنا ہے کہ 4اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے، نوجوان کی ہلاکت اہلکاروں کی گولیوں سے ہوئی یا کسی اور کی فائرنگ سے؟ اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ سہیل انور خان سیال اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔