نواز شریف کے بیان پر پنجاب اسمبلی میں دوسرے روز بھی ہنگامہ آرائی

فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاہور:ممبئی  حملوں سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیان پر پنجاب اسمبلی میں دوسرے روز بھی ہنگامہ آرائی ہوئی جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی کو روکنا پڑ گیا۔

منگل کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف میاں محمودالرشید نے اسپیکر سے نواز شریف کیخلاف مذمتی قرارداد پیش کرنے کی اجازت مانگی۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسلامی کونسل کے اجلاس میں سابق وزیراعظم کے بیان کو گمراہ کن قرار دیا گیا، نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا بیان مسترد کر دیا، شاہد خاقان عباسی کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

سابق وزیراعظم کرپشن کیسز سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسے شوشے چھوڑ رہے ہیں، وہ جمہوریت کی بساط کو لپیٹنا چاہتے ہیں اور سرحدوں پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں اور ملک کیخلاف گھناؤنی  سازش میں ملوث ہیں۔

نواز شریف کیخلاف مذمتی قرارداد کی اجازت دی جائے،جب تک نواز شریف اپنے بیان پر قوم سے معافی نہیں مانگتے ایوان نہیں چلنے دیں گے۔

اسی دوران حکومت اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے آگئے، اپوزیشن ارکان اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی شروع کردی،جس کے جواب میں حکومتی اراکین نے بھی نعرے بازی شروع کردی۔

اسپیکر نے صورت حال پر قابو پانے کیلئے اجلاس کی کارروائی 20 منٹ کیلئے روک دی۔

loading...
loading...