نواز شریف لندن فلیٹس کے بینیفیشل اونر ہیں نہ ان سے تعلق ہے،خواجہ حارث

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف لندن فلیٹس کے بینیفیشل اونرہیں نہ ان سے تعلق ہے۔

جمعے کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز استثنیٰ کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ کیپٹن (ر)صفدر عدالت میں پیش ہوگئے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے  آج بھی دلائل کا سلسلہ جاری ہے۔

واجہ حارث نے سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف لندن فلیٹس کے بینیفیشل اونرہیں نہ ان سے تعلق ہے، استغاثہ کو لندن فلیٹس کی ملکیت بھی ثابت کرنا تھی۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ واجد ضیاء کا بیان2 حصوں میں تقسیم ہونا ہے، بیان حلفی کے مطابق 1974میں میاں شریف نے گلف اسٹیل بنائی جبکہ طارق شفیع نے کہا 1973میں وہ انیس سال کے تھے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ طارق شفیع نے کہا میاں شریف انہیں بھی دبئی لے گئے، ریکارڈ پرآنے والی ہردستاویز کا جائزہ لیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز دلائل دیتے ہوئے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا تھا کہ جےآئی ٹی ایک تفتیشی ایجنسی تھی، جو تفتیش کیلئے قانون وضع کرتی ہے کہ قابل قبول شہادت کونسی ہے اور کونسی نہیں؟۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جےآئی ٹی سربراہ کا کام صرف تفتیش کرکے مواد اکٹھا کرنا تھا،کوئی نتیجہ اخذ کرنا جے آئی ٹی کا اختیار نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ جے آئی ٹی سربراہ کے اخذ کیے گئے نتائج اور رائے قابل قبول شہادت نہیں۔

آج سماعت کے دوران خواجہ حارث نے حتمی دلائل کا سلسلہ وہیں سے شروع کیا، جہاں کل ٹوٹا تھا۔

loading...
loading...