نقیب اللہ قتل کیس:سپریم کورٹ کاسی سی ٹی وی فوٹیجزپر بریفنگ دینےکاحکم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو راؤ انوار کی کراچی اور اسلام آباد کی سی سی ٹی وی فوٹیج پربریفنگ دینے کاحکم دے دیا۔

بدھ کو چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثارکی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

ایم آئی اور آئی ایس آئی کی معاونت مل گئی لیکن سندھ پولیس راؤ انوار کو گرفتار نہ کرسکی،نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار آج بھی سپریم کورٹ میں پیش نہ ہوسکے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے راؤ انوار کا ایک اور خط آیاہے،معلوم نہیں خط اصلی ہے یانقلی؟خط کو فائل میں رکھوا دیاہے،خط میں راؤ انوار نے کہا ہے کہ اکاونٹ کھول دیں،رپورٹ تو مل رہی ہے لیکن کیس میں پیش رفت نہیں ہے۔

ڈپٹی اٹارنی سہیل محمود نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں کے مطابق تمام مشتبہ افراد نے موبائل نمبر بند کردئیے ہیں۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کیس میں 24ملزم ہیں لیکن اب تک 10لوگ گرفتار ہوئے،ریاست کی اتھارٹی پر سوال اُٹھ رہے ہیں؟۔

چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کیا ایم آئی اورآئی ایس آئی آپ کی معاونت کررہے ہیں، جس پرآئی جی سندھ نے کہا کہ دونوں سیکیورٹی ادارے معاونت کررہے ہیں۔

 اب تک 12 ملزمان گرفتارہوچکے ہیں، باقی ملزمان کی گرفتاری کی کوشش کررہے ہیں، پہلی ایف آئی آر منسوخ کردی ہے، مقدمے کا چالان داخل کردیا ہے۔

چیف جسٹس نے عدالت کا آئی جی سندھ کو راؤانوارکی کراچی اور اسلام آباد سی سی ٹی وی فوٹیج پر ان کیمرا بریفنگ دینے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہوسکتا ہے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد مل جائے ہم وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈائریکٹر جنرل ایئرپورٹس کو بھی طلب کرلیا،کیس کی مزید سماعت اب 16 مارچ کو کراچی رجسٹری میں ہوگی۔

یاد  رہے کہ نقیب اللہ کو کراچی میں گرفتار کرنے کے بعد جعلی مقابلے میں 3 مزید افراد کے ساتھ ہلاک کیا گیا تھا، راؤ انوار نے دعویٰ کیا تھا کہ نقیب مطلوب دہشتگرد تھا تاہم تحقیقات سے ثابت ہوا کہ وہ بے گناہ تھا اور اسے گرفتار کرنے کے کئی روزبعد ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔

loading...
loading...