نجی میڈیکل کالجزمیں ایڈمیشن سسٹم کوسینٹر لائز کرنا ہے،چیف جسٹس

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:نجی میڈیکل کالجزفیس سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثا رنے کہا کہ نجی میڈیکل کالجزمیں ایڈمیشن سسٹم کوسینٹرلائزکرنا ہے،موجود ایڈمیشن نظام میں سقم ہیں ۔

جمعرات کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے پرائیوٹ میڈیکل کالجز فیس اسٹرکچرکیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ ہم نے کالجز کی فیس ساڑھے 8 لاکھ روپے مقرر کی ہے اس سے ایک پیسہ بھی زائد نہیں لینے دیں گے، فیس میں کھانے اور رہائش کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے  کہ میڈیکل کالجز 34 لاکھ روپے تک وصول کرکے والدین کا استحصال کررہے ہیں۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کس موٹرسائیکل پرسامان رکھ کرلایا جاتا ہے سب معلوم ہے اور کس طرح انسپکشن ہوتی ہے تصاویر سمیت تمام معلوم آتی ہے۔

چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم معیاری ڈاکٹرز بنانا چاہتے ہیں، میڈیکل کالجزچلانے کے شعبے میں ایسے لوگ آچکے ہیں جودکاندارہیں۔

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 745 ملین روپے ریکور کرکے طالب علموں کو واپس کرائے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے تاحکم ثانی نجی میڈیکل کالجزکو داخلوں اوراشتہارات سے روک دیا اورکیس کی سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی۔

loading...
loading...