نجی میڈیکل کالجز،سرکاری اسپتال انتظامیہ اپنا قبلہ درست کرے،چیف جسٹس

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی :چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نجی میڈیکل کالجزاور سرکاری اسپتال انتظامیہ اپنا قبلہ درست  کرے۔

ہفتے کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں نجی میڈیکل کالجز سے متعلق کی س کی سماعت ہوئی،دوران سماعت چیف جسٹس نے میڈیکل کالجز اور سرکاری اسپتال انتظامیہ کو قبلہ درست کرنے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نجی کالجز کو بڑے بھائی کی حیثیت سے ہدایت ہے،یہ التجا، درخواست یا حکم سمجھ لیں،ہر حال میں عملدرآمد کرائیں گے۔

پھر غیر معیاری دودھ کی فروخت سے متعلق ازخود نوٹس پر چیف جسٹس ڈبے کے دودھ کو فراڈ قرار دیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سندھ میں فورڈ اتھارٹی ہی نہیں، صوبائی حکومت کر کیا رہی ہے؟،کیا اتھارٹی بننے تک شہریوں کو غیر معیاری دودھ پلائیں گے؟۔

عدالت نے کراچی کی مارکیٹس سے پیکٹ دودھ کے تمام پرانڈز کی پروڈکٹ کا ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا،صاف پانی سے متعلق کیس پر بھی عدالت ایکشن میں نظر آئی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹریٹنمٹ پلانٹ نہ بنیں تو کیا 3 سال تک کراچی کے لوگوں کو فضلہ ملا پانی پلائیں گے؟ ۔

انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل کو فوری اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ اتنی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔