قوم کا پیسہ سیاستدانوں کی سیکیورٹی پرلٹانے کی اجازت نہیں دیں گے،چیف جسٹس

فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاہور:چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ملک میں حاکمیت صرف اللہ اور قانون کی ہوگی جبکہ قوم کا پیسہ سیاستدانوں کی سیکیورٹی پر لٹانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ہفتے کو سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے سیاستدانوں، وزرا ءاور دیگر شخصیات کو غیر ضروری سیکیورٹی دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

پنجاب پولیس نے سیاست دانوں کو دی گئی سیکیورٹی سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جو چیف جسٹس نے مسترد کر دی۔

ڈی آئی جی عبدالرب نے بتایا کہ31  سیاست دانوں کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے،درخواست گزار اظہر صدیق نے کہا کہ پنجاب پولیس نے ساری سیکیورٹی مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور ان کے اہل و عیال کو دی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف، احسن اقبال، ایاز صادق، زاہد حامد اور احسن اقبال کی سیکیورٹی تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن رانا ثنااللہ، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان،عابد شیر علی، احسن اقبال کے بیٹے کو سیکیورٹی کس لئے دی جارہی ہے، یہ لوگ ایک طرف تو عدلیہ کو گالیاں دیتے ہیں اور دوسری طرف سیکیورٹی مانگتے ہیں۔

چیف جسٹس نے آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدلیہ مخالف بیانات دینے والوں کوسیکیورٹی فراہم کر رکھی ہے، یہ قوم کا پیسہ ہے، اس طرح لٹانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ لوگ خودسیکیورٹی کا بندوبست نہیں کرسکتے تو بیت المال سے 60 ہزار دے دیں، اس ملک میں حاکمیت صرف اللہ کی اور قانون کی ہوگی، بتایا جائے کہ حمزہ شہباز کو اور مجھے کتنی سیکیورٹی دی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا میں بتاتا ہوں آپ نے مجھے حمزہ شہباز کے برابر کی سیکیورٹی دی ہے، آپ نے تو ججز اور سپریم کورٹ کے ججز کی سیکیورٹی سے انکار کر دیا تھا۔

عدالت نےسیاست دانوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی سفارشات دینے والی کمیٹی کو ذاتی حثیت میں رات 8 بجے طلب کرلیا۔

loading...
loading...