قطری شہزادے کی آمادگی کےباوجودان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا،نواز شریف

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ قطری شہزادے کی آمادگی کے باوجود ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا،واجد ضیاء کا تبصرہ سنی سنائی بات ہے۔

منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)صفدر عدالت میں موجود ہیں۔

احتساب عدالت میں آج بھی مسلم لیگ (ن )کے قائد کا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے،سماعت کے دوران نوازشریف نے دوسرے روز بھی اپنے بیان میں واجد ضیاء پر اعتراض جاری رکھا۔

نوازشریف نے سماعت کے آغاز پرعدالت کوبتایا کہ اخترراجا واجد ضیاء کے کزن ہیں اور ان کا عدالت میں دیا گیا بیان جانبدارانہ تھا، واجد ضیاء کے برطانوی کزن ضرورت سے زیادہ کیس میں دلچسپی لے رہے تھے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جیرمی فری مین کے 5 جنوری2017 کے خط میں ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق ہوئی ،انہوں نے کومبر گروپ اورنیلسن نیسکول ٹرسٹ کی تصدیق کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیرمی فری مین کے پاس ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپی آفس میں موجود تھی جبکہ اخترراجا ،جےآئی ٹی اور تفتیشی افسرنے کاپی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

مسلم لیگ (ن )کے قائد نے کہا کہ اخترراجہ کومعلوم ہونا چاہیے کاپی پرفرانزک معائنے کا تصورنہیں ،اخترراجانے دستاویز خودساختہ فرانزک ماہرکوای میل سے بھجوائیں۔

نوازشریف نےمزید کہا کہ حقیقت ہے کہ فرانزک ماہر نے فوٹو کاپی پرمعائنے پرہچکچاہٹ ظاہرکی۔

 انہوں نے کہا کہ وہ حدیبیہ پیپرزمل اورالتوفیق کےدرمیان کسی سٹیلمنٹ کا حصہ نہیں رہے،22دسمبر 2016 کا قطری شہزادے کا خط اورورک شیٹ تسلیم شدہ ہے۔

قطری شہزادے نے کبھی کارروائی میں شا مل ہونے سے انکارنہیں کیا،تاہم آمادگی کے باوجود حکام نے بیان قلمبند کرنے کیلئے سنجیدہ کوشش نہیں کی ،جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان خود ریکارڈ نہیں کیا ۔

نوازشریف نےکہا وہ گلف اسٹیل معاہدوں کا کبھی حصہ نہیں رہے،دبئی اسٹیل مل کے قیام کی سرمائے کا بھی علم نہیں۔

نیب پراسیکیوٹیر نے اعتراض اٹھایا کہ یہ طریقہ نہیں کہ 6دن کی لکھی ہوئی کہانی پڑھ کر سناتے رہیں۔

جج محمد بشیر نے پوچھا کہ  آپ کہنا کیا چاہتے ہیں وہ بتائیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میرا اعتراض عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے،جس پر نوازشریف نے کہاکہ میں اس بیان کو اون کرتا ہوں، یہ بیان خواجہ صاحب کی مشاورت سے تیار کیا، میں زیادہ دیر تک پڑھتا رہوں تو گلے میں مسئلہ ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میں نے خواجہ صاحب کو پڑھنے کا کہا،نیب کواعتراض کرنا تھا تو گزشتہ روز کرلیتے،اعتراض کے بعد نوازشریف نے خود بیان پڑھنا شروع کردیا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کا بیان مکمل ہونے کے بعد ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نامزد ملزمان سے الگ الگ سوالات کے جواب طلب کررکھے ہیں۔

loading...
loading...