فیض آباد دھرنا کیس میں رپورٹ پیش نہ کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ برہم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:فیض آباد دھرنا کیس میں راجہ ظفر الحق رپورٹ پیش نہ کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی صدیقی برہم ہوگئے۔

جمعے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس شوکت صدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس پر سماعت کی،فریقین کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش نہ کی جاسکی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ میں دھرنا کیس چل رہا ہےہائیکورٹ میں کیس نہ سنا جائے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکومتی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ میں دھرنا کیس چل رہا ہے مگر اس کا راجہ ظفرالحق رپورٹ سے تعلق نہیں،راجہ ظفرالحق رپورٹ کا شق وارجواب نہیں دیا گیا ، کیا متنازعہ آڈیوسے متعلق پورٹ دی گئی؟۔

جسٹس شوکت نے کہا کہ عدالت کومجبورنہ کریں ورنہ وزیراعظم کوبھی بلا سکتے ہیں،اگررپورٹ پیش نہ کی گئی توتوہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔

عدالت نے سیکریٹری دفاع ، داخلہ اورقانون،ڈی جی آئی بی،آئی جی اسلام آباد اورچیف کشمنر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،عدالت نے دھرنا کیس کی سماعت 9فروری تک ملتوی کردی۔

loading...
loading...