فیس بک نے پاکستانی انتخابات کیلئے اہم اقدامات اٹھانا شروع کردئے

Untitled-1

فیس بک نے پاکستان میں انتخابات کو شفاف بنانے اور جعلی و سنسنی خیز خبروں کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کا دعوی کیا ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں انتخابات کی معتبر ساکھ یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں انتخابات میں فیس بک کا غلط استعمال روکنے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں۔

فیس بک کے پاکستان کے لیے پبلک پالیسی ہیڈ صارم عزیز کے مطابق فیس بک نے انتخابات کے موقع پر جو اقدامات اٹھائے ہیں اس میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے پیجز کو تحفظ کی فراہمی، اشتہاری پالیسیوں اور وسیع تر اشتہارات اور پیج کی شفافیت کے نفاذ میں بہتری، جعلی اکاؤنٹس سے نمٹنے کے لئے مشین لرننگ کا استعمال بہتر بنانے اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے جیسے کام شامل ہیں۔

صارم عزیز کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا حکومتی ایوانوں میں لوگوں کی آواز پہنچانے میں آسانی پیدا کررہا ہے، مختلف مسائل پر اظہار خیال کیا جاتا ہے اور بامقصد کاموں کے لیے لوگ فعال ہوتے ہیں، یہ الیکشن جیسے اہم عوامی امور کے لئے بھی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سیکورٹی کے شعبے میں کام کے لئے لوگوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور اس حوالے سے مختص ٹیمیں انتخابات کے دوران ہمارے پلیٹ فارم کا غلط استعمال روکنے پر توجہ دیں گی۔

صارم عزیز کے مطابق رواں ہفتے فیس بک پاکستان میں اپنی کمیونٹی کے لئے آزمائشی طور پر خودمختار فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے اشتراک سے حقائق کی جانچ پڑتال کا کام شروع کر رہا ہے، جس کا مقصد غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ادارے کی جانب سے حقائق کی تصدیق کا کام ان اقدامات میں سے ایک ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اور انسانی جائزے کو استعمال کرکے فیس بک پر جعلی خبروں کی شناخت کی جائے گی اور ان کی رسائی محدود کی جائے گی جب کہ فیس بک پر لوگوں کے فیڈ بیک سمیت دیگر سگنلز بھی استعمال کیے جائیں گے۔

زیادہ کلک کے حصول کے لئے سنسنی خیز سرخیوں والی خبروں سے لے کر ممکنہ جعلی خبروں کی نشاندہی کی جائے گی اور اے ایف پی جیسے فیکٹ چیکرز سے حقائق کی جانچ پڑتال کرکے خبروں کا جائزہ لیا جائے گا، اگر فیکٹ چیکر کسی خبر کو جعلی ریٹ کرتے ہیں تو ہم نیوز فیڈ میں اس کا پھیلا تیزی سے کم کردیتے ہیں اور نئے دیکھنے والوں کی شرح میں اوسطا 80 فیصد سے زائد کمی آجاتی ہے۔

ایسے پیجز اور ڈومین جو مسلسل غلط خبریں شیئر کریں گے تو انہیں اپنی ڈسٹری بیوشن محدود نظر آئے گی اور ان کی مانیٹائز اور تشہیر کی سہولت بھی ختم ہوجائے گی۔

بشکریہ Indian Express

loading...
loading...