فواد رانا نے لگاتار ناکامیوں کی وجہ بدقسمتی کو قرار دے دیا

main1

پہلے دو ایڈیشنز کی طرح پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن میں بھی ناکامی سے دوچار ہونے والی ٹیم لاہور قلندرز کے اونر فواد رانا نے ایک انٹرویو میں ٹیم کی لگاتار ناکامی کی وجہ بدقسمتی کو قرار دے دیا۔

انگریزی اخبار کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی لگاتار ناکامی کی وجہ اور کچھ نہیں بلکہ بدقسمتی ہی ہے۔

فواد رانا کا کہنا تھا کہ لاہور کی ٹیم کے لئے قلندرز کا نام ان کی والدہ نے منتخب کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ لاہور فرینچائز کا نام رکھتے وقت وہ کافی شش و پنج کا شکار تھا کیونکہ مختلف لوگوں کی جانب سے مختلف ناموں کا اظہار کیا جارہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی نے ٹیم کا نام ‘لاہور شیردِلز’ رکھنے کا مشورہ دیا تو کسی نے ‘لاہور لائنز’، لیکن میری والدہ نے ‘لاہور قلندرز’ رکھنے پر ہی زور دیا۔ چونکہ میں اپنی والدہ کی بہت عزت اور پیار کرتا ہوں اسی لئے میں نے بھی ‘لاہور قلندرز’ کو فائنل کردیا۔

لاہور کی ٹیم اب تک اس ٹورنامنٹ میں 8 میچز کھیل کر محض دو کامیابیاں سمیٹ سکی ہے، فرینچائز اونر نے بتایا کہ ابتدائی میچز میں لگاتار شکست کے بعد کپتان برینڈن مککلم نے انہیں کپتانی چھوڑنے کی بھی تجویز دی تھی، لیکن میں نے ان سے کہا کہ میں نے کبھی نہیں چاہا کہ آپ مسلسل ہار کے باعث کپتانی چھوڑ دیں۔

عمر اکمل کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں عمر اکمل کے لئے یہ ٹورنامنٹ اچھا نہیں رہا، تاہم میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں ان کی عزت کرنی چاہیئے جس کا سب سے بہترین راستہ یہ ہے کہ انہیں میدان میں لاکر بینچ پر بٹھانے کے بجائے ہوٹل میں ہی رہنے دیا جائے، ان کی فیملی بھی یہاں موجود ہے اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا حق رکھتے ہیں۔

انہوں نے باقی ماندہ دو میچز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے خلاف اب عزت کی جنگ لڑیں گے، وہ ان دونوں میچز میں کامیابی کے لئے خاصے پر عزم دکھائی دے رہے ہیں۔

loading...
loading...