عمران خان کی 4مقدمات میں عبوری ضمانت میں 11دسمبر تک توسیع

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد :اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملوں سمیت 4 مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی عبوری ضمانت میں 11 دسمبر تک کی توسیع کردی۔

جمعرات کو اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پی ٹی ویاور پارلیمنٹ پر حملوں سمیت 4مقدمات کی سماعت ہوئی ،سماعت شروع ہوتے ہی تفتیشی افسرنےعمران خان کے شامل تفتیش ہونے اوربیان ریکارڈ کرانے کی رپورٹ پیش کی۔

عمران خان کے وکیل بابراعوان نے فیض آباد معاہدہ پڑھ کرسنایا اوردھرنا شرکا کے مقدمات ختم کرنےکا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ احتجاج کسی دہشتگرد تنظیم کا نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کا تھا۔

جس پرجج نے ریمارکس دیئے کہ فیض آباد دھرنے کے مقدمات ابھی ختم نہیں ہوئے،تمام ملزمان ضمانتیں کروارہےہیں۔

عمران خان نے چاروں مقدمات میں شامل دہشتگردی کی دفعات اورعدالتی دائرہ اختیارکوچیلنج کرتے ہوئےمؤقف اپنایا کہ کیا اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرنا دہشتگردی ہے؟ ۔

انہوں نے استدعا کی کہ مقدمے کوانسداد دہشتگردی عدالت سے سیشن کورٹ منتقل کئےجائیں۔

پراسیکیورٹرنے مقدمات منتقلی کی مخالفت کی اورکہا عمران خان کے خلاف کارکنوں کوتشدد پراکسانے کے ٹھوس شواہد ہیں،عمران خان نے آئی جی کومارو اوروزیراعظم ہاؤس پرقبضہ کروکی ہدایات دیں،جس پر ملزم کےخلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دس دفعات کا اطلاق ہوتا ہے۔

عدالت نے مقدمہ منتقلی کی درخواست پرپولیس کونوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 11دسمبرتک توسیع کرتے ہوئے سماعت آئندہ پیرتک کیلئے ملتوی کردی ۔