عرب لیگ نے امریکی فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا

Untitled-1-Recovered

قاہرہ: عرب لیگ نے امریکا سے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنےکافیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔عرب لیگ کے  جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس سےمتعلق امریکی فیصلےکی قانونی حیثیت نہیں،فیصلےسےخطےمیں تشددمیں اضافہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف قاہرہ میں عرب وزرائےخارجہ کاہنگامی اجلاس  ہوا۔ جس میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

عرب لیگ کے اعلامیہ میں   امریکا سے مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنےکافیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مقبوضہ بیت المقدس سےمتعلق امریکی فیصلےکی قانونی حیثیت نہیں،فیصلےسےخطےمیں تشددمیں اضافہ ہوگا۔امریکی فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

عرب وزرائےخارجہ کے اجلاس سے سیکریٹری جنرل احمدابوالغیط نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس سےمتعلق امریکی فیصلہ یکطرفہ ہے،امریکی فیصلے نے ہمیں دیگر آپشنز پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے ، امریکی فیصلے سے عرب دنیا میں امریکی اعتبارختم ہوگیاہے، امریکی فیصلہ ایسی غلطی ہےجس پرچپ نہیں رہ سکتے۔

فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے،امریکانےاپنا خطےمیں اعتبارختم کردیا ہے، امریکااب مشرق وسطیٰ میں ثالث کااہل نہیں رہا۔

وزیرخارجہ اردن ایمن الصفدی کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کےاطمینان کےبغیرخطےمیں امن نہیں ہوسکتا۔

مصرکےوزیرخارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال سےدہشت گردوں کوفائدہ ہوگا،امریکی فیصلہ دنیاکومذہبی جنگ کی طرف دھکیل رہاہے۔ علاوہ ازیں لبنان کی امریکی سفارتخانےکی بیت المقدس منتقلی روکنےکیلئے اقتصادی پابندیوں پرغورکیاجاناچاہیے۔ اور عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا پر معاشی پابندیاں عائد کریں۔

loading...
loading...