راؤ انوار کو ضمانت کیوں دی گئی؟ عدالتی فیصلے نے واضح کردیا

 Untitled-1

کراچی: انسداد دہشتگردی عدالت نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی ضمانت سے متعلق تحریری حکم جاری کردیا ہے۔ حکم نامے میں راؤ انوار کو پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

انسداد دہشتگردی کی جانب سے جاری حکم نامہ 23 صفحات پر مشتمل ہے۔ حکم نامے کے مطابق راؤ انوار کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ راؤ انوار شہر چھوڑ کر بھی نہیں جاسکتے تاہم راؤ انوار کا خاندان ان سے ملنا چاہے تو پاکستان آسکتا ہے۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں ہرقسم کی طبی سہولیات موجود ہیں۔ راؤ انوار کی طبیعت خراب ہے تو مقامی اسپتال سے علاج کرائیں۔

گذشتہ روز انسداد دہشتگردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار کی درخواست ضمانت پر منظور کی۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم معطل ایس ایس پی راؤ انوار کی درخواست ضمانت پر فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد پانچ جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت نے گذشتہ روز محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم راؤ انوار کی درخواست ضمانت منظور کی اور انہیں 10 لاکھ روپے زرضمانت مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

loading...
loading...