سیاست کے فیصلے عدالتوں میں ہونا اچھی روایت نہیں،وزیراعظم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بہاولپور:وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں ہونا اچھی روایت نہیں ،نواز شریف کو آمر کے دور میں بھی سزا دی گئی تھی، انہیں سزا دینے والے ججز اور آمر آج کہاں ہیں؟۔

ہفتے کو بہاولپور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومتیں کام شروع کرتی تھیں تومکمل نہیں کرتی تھیں، (ن) لیگ کی حکومت منصوبے شروع بھی کرتی ہے اور مکمل بھی کرتی ہے، مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ حکومتوں کے منصوبے بھی مکمل کئے ہیں، لوگ خیبر پختونخوا میں عمران خان اور سندھ میں آصف زرداری کا کام دیکھ لیں اور پنجاب میں شہباز شریف کا کام دیکھ لیں، فرق سب کو نظر آتا ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ الیکشن سے چند ماہ پہلے پریس کانفرنس کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے، وفاداریاں بدلنے کا زمانہ چلا گیا ہے، پارٹی چھوڑنے والوں کو جولائی میں پتہ چل جائے گا کہ عوام کیا سوچتے ہیں، مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی سے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کیلئے قرارداد منظور کرائی۔

انہوں نے مزید کہا کہ  آئین میں ترمیم کوئی ایک جماعت نہیں کرسکتی، آئین میں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ہوتی ہے، نئے صوبے بھی اتفاق رائے سے بنانے ہیں، اس کا فیصلہ کوئی ایک جماعت کرسکتی ہے نا کرنا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ  لوگ ہزارہ اورجنوبی خیبر پختونخوا صوبے کی بھی بات کرتے ہیں، صوبوں کے بارے میں سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے فیصلہ کریں گی، تمام سیاسی جماعتیں بیٹھیں مذاکرات کریں اور ایک فیصلہ کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان صرف جمہوریت اور عوام کے فیصلے پر چلے گا، سیاست کے فیصلے جولائی میں پولنگ اسٹیشنز پر ہوں گے، سیاست کے فیصلےعدالتوں سے ہونا اچھی روایت نہیں،گزشتہ روز عدالت سے نواز شریف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا، ہمیں نواز شریف کی زندگی بھر نااہلی کا فیصلہ بھی قبول ہے، جولائی میں نوازشریف کےحق میں فیصلہ آئے گا۔

loading...
loading...