سپریم کورٹ کا راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو  گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

 منگل کو چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے نقیب اللہ محسود قتل ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے عدالت کو ملزم کی لوکیشن ٹریس کرنے کی یقین دہانی کرائی،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس کامطلب ابھی تک کچھ نہیں ہوا،لگتاہے راؤانوارکو ہمیں ہی پکڑناہوگا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایک خط کمرہ عدالت میں لہرایا اور کہا یہ راؤانوار کا خط ہے،جس میں وہ اپنے آپ کوبے گناہ اور موقعے پرموجود نہ ہونے کا کہتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ  خط میں راؤ انوار نے  آزاد جے آئی ٹی بنانے کی بات بھی کی اس پیشکش پرکیا کرنا چاہیے،اس پر  اے ڈی خواجہ نے راؤ انوار کو صفائی کا موقع دینے کا مؤقف اختیار کیا۔

چیف جسٹس نے راؤ انوارکوگرفتارنہ کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ راؤ انوار نے آئی ایس آئی ، آئی بی اور ایم آئی کو جے آئی ٹی میں شامل کرنے کی استدعا کی ہے ،خط کی تصدیق راؤ انوار ہی کرسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے راؤ انوار کو جمعے کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی اور کہا راؤ انوارکوبھی انصاف ملنا چاہیے شہادت کے بغیرکسی کومجرم نہیں کہہ سکتے قومی اداروں پر بے یقینی یا مایوسی کا اظہارنہیں ہوناچاہے۔

عدالت نے سندھ اوراسلام آباد پولیس کو  راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے اورراؤانوارکی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی اور کہا کہ  راؤانوارکے خط پرجے آئی ٹی بھی تشکیل دیں گے،تمام احکامات راؤانوار کی آمد سے مشروط ہوں گے۔

بعدازاں عدالت نے راؤ انوار کو 16 فروری کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

loading...
loading...