سلامتی کونسل میں روس کی مذمتی قرارداد مسترد

Untitled-1

نیویارک: روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد جمع کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ  اتحادی افواج شام میں کارروائیاں بند کریں،  لیکن امریکا اور اتحادیوں نے متن ہی منظور نہ ہونے دیا۔

 روس کی حمایت میں صرف چین اوربولیویا نے ووٹ دیا۔

یاد رہےامریکا اور اتحادی افواج نے شام کے علاقے دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے بعد شامی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کی مذمتی قرارداد مسترد کردی گئی صرف چین اور بولیویا نے حق میں ووٹ ڈالے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی اور امریکی سفیر میں لفظی جنگ بھی جاری رہی ،

روسی سفیر ویسلی نبینزیا نے کہا امریکا،برطانیہ اور فرانس نے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں۔

روس کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے بغیر شام میں میزائل حملہ کرکے امریکا، فرانس اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکی سفیر نکلی ہیلی نے دوبارہ امریکی ردعمل کی تنبیہہ کی۔

ان کا کہنا تھا  کہ روس کی حمایت نے شامی صدر بشارالاسد کو حملے جاری رکھنے کا حوصلہ دیا،حملے بالکل جائز، قوانین کے مطابق اور متناسب تھے،ہم خاموش رہ کر روس کو ان بین الاقوامی اقدار کی دھجیاں اڑانے نہیں دے سکتے ۔جن کے لیے ہم نے کوششیں کی ہیں اور ہم کیمیائی حملوں پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔

 امریکی صدر نے کہا ہے کہ  اگر شام نے دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو ہم بھی پوری طرح دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے فوجی کارروائی روکنے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔

loading...
loading...