زلفی بخاری کو  رعایت دینے کی ذمے داری قبول

zulfisecond

نگراں وزیرداخلہ اعظم خان نے زلفی بخاری کو ایک بار بلیک لسٹ سے رعایت دینے کے فیصلے کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم یہ بھی بتایا ہے کہ اس بارے میں نیب یا عمران خان نے کوئی رابطہ نہیں ہوا ۔

 نگراں وزیرداخلہ اعظم خان نےعمران خان اور زلفی بخاری کے عمرے پر جانے سے متعلق بتایا کہ  زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں تھا اس لئے ان کو روک لیا گیا ۔

پھر سیکرٹری داخلہ فائل لے کر آئے اور کہا کہ زلفی بخاری نے بلیک لسٹ سے نام ایک دفعہ کیلئے نکالنے کی درخواست کے ساتھ بیان حلفی بھی دیا ہے کہ وہ واپس آئیں گے۔ زلفی بخاری کے خلاف نیب میں آف شور کمپنیوں کا کیس ہے،اس لئےنام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست آئی تھی۔

نگراں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ  اس وقت کابینہ کی متعلقہ کمیٹی نہ ہونے کی وجہ سے زلفی بخاری کا نام صرف بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا۔

loading...
loading...