زرداری،فریال کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کاحکم نہیں دیا،چیف جسٹس

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ عدالت نے آصف زرداری اورفریال تالپورکا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم نہیں دیا۔

جمعرات کو جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے آج مبینہ جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری کے وکیل ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئےجبکہ نجی بینک کے سابق صدر حسین لوائی کو بھی سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔

سماعت کےدوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ کیا آصف زرداری اور فریال تالپورملزمان ہیں؟ ،اگر نہیں تو ای سی ایل میں نام ڈالنے کی رپورٹس نشرکیوں ہوئیں؟،نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا، اس تاثرکوختم ہونا چاہیے!۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ ہم نے آصف زرداری کوذاتی حیثیت میں طلب ہی نہیں کیا  لیکن اگر بلایا تو انہیں عدالت میں آنا پڑے گا،کسی کی عزت نفس متاثر نہیں ہونے دیں گے،عدالت نے نوٹس میڈیا رپورٹس پر لیا۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا آصف زرداری کا زرداری گروپ سے کوئی تعلق نہیں، ایف آئی اے نجف مرزا سے تحقیقات کروارہی ہے جن کیخلاف آصف زرداری نے مقدمہ درج کرارکھا ہے۔

عدالت نے نجف مرزا سے تحقیقات واپس لینے کی فاروق ایچ نائیک کی استدعا مستردکردی۔

صدرسمٹ بینک نے بتایاکہ بینک میں جعلی اکاونٹس نہیں ہیں،بینک اکاونٹس سے متعلق کیسزبھی ان کے پاس نہیں آئے۔

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کوالیکشن تک آصف زرداری اورفریال تالپورکوشامل تفتیش کرنے سے روک دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آصف زرداری اورفریال تالپورکے علاوہ تمام ملزمان شامل تفتیش ہوں گے تاکہ کل یہ عذرسامنے نہ آجائے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی،ملک میں صاف شفاف انتخابات کرائیں گے۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہاکہ کیس میں شامل جن افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالے ہیں وہ 6 اگست تک رہیں گے، بے گناہ ہونے پرنکال دیں گے۔

چیف جسٹس نے حسین لوائی سے ضمانت ہونے سے متعلق پوچھتےہوئے کہاکہ ہرکام میں یونس حبیب اورحسین لوائی کا نام کیوں آجاتا ہے؟ حسین لوائی بولے کہ ان کا قصورصرف بینک کا صدرہونا ہے ،اگرسول جج کوئی غلط کام کرے توکیا قصوروارچیف جسٹس ہوں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ سول کورٹ میں غلطی پرکارروائی ان تک آئے گی،عدالت نے صرف بدنیتی دیکھنی ہے۔

سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 6 اگست تک کیلئے ملتوی کردی۔

loading...
loading...