راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پر

zafarimage

راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی کی لیکن باقاعدہ کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد نے تسلیم کیا کہ ڈرافٹ چیک کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی پورا ہوچکا ہے  اور فارم بھی اپنی اصل شکل میں بحال ہوچکا ہے۔سب سے پہلے بائیس ستمبر کو سینیٹ اجلاس میں سینیٹر حافظ حمد اللہ نے یہ معاملہ اٹھایا اور قرارداد پیش کی۔

راجہ ظفر الحق نے سینیٹر حافظ حمد اللہ کی قراداد کی حمایت کی، لیکن سینیٹ میں حلف نامے کے حوالے سے قراداد کی پی ٹی آئی اور پی پی پی نے مخالفت کی۔

loading...
loading...