ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس:تمام ملزمان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم واپس

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری ازخودنوٹس کیس میں شعیب شیخ سمیت تمام ملزمان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم کچھ دیر بعد واپس لے لیا۔

جمعے کو چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3رکنی بینچ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

عدالت میں بول ٹی وی کے متاثرین نے بھی اپنی صدا بلند کی جس پر چیف جسٹس نے انہیں سننے کی یقین دہانی کرائی۔

چیف جسٹس نے ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات سے متعلق استفسار کیا تو حکام کی جانب سے مقدمات زیرالتواء ہونے کا بتایا  گیا جس پر عدالت نےحکم دیا کہ سندھ ہائیکورٹ  خصوصی بینچ تشکیل دے کر مقدمے کا فیصلہ ایک ماہ میں کرے ۔

سپریم کورٹ نے شعیب شیخ سمیت تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا تاہم شعیب شیخ اور دیگر ملزمان کی ملک سے باہر نہ جانے کی یقین دہانی پر حکم واپس لے لیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایگزیکٹ ایک کمپنی ہے، کب سے ایگزیکٹ ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہے؟ ، ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ کمپنی جولائی 2006سے پہلے کی رجسٹرڈ ہے اور اس کا کاہیڈ آفس کراچی خیابان اقبال میں ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ ایگزیکٹ کا بزنس کیاہے؟ ، جس پر بشیر میمن نے بتایا کہ سافٹ وئیر کی ایکسپورٹ کابزنس ظاہر کیا گیاہے ،ایگزیکٹ کے 10بزنس یونٹ ہیں، ایگزیکٹ کی 330 یونیورسٹیاں تھیں، 5 ہزار ڈالرز میں ایگزیکٹ کی ڈگری مل جاتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ایگزیکٹ کا کسی یونیورسٹی سے الحاق ہے، جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ یونیورسٹیوں کا صرف ویب پیج تھا، کسی یونیوسٹی کا ایگزیکٹ سے الحاق نہیں تھا، صرف تجربے پر ایگزیکٹ والی ڈگری مل جاتی تھی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر کیمپس نہیں تو کلاس رومز بھی نہیں ہوں گے، ہمارے ہاں بھی ورچوئل یونیورسٹی ہے، کیا ورچوئل یونیورسٹی کوئی پروگرام کنڈکٹ بھی کرتی تھی، میرا قانون کا تجربہ ہے مجھے پی ایچ ڈی کی ڈگری مل سکتی ہے۔

جس پر بشیر میمن نے کہا کہ تجربہ کی بنیاد پر آپ کو قانون اور انگلش کی ڈگری مل سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انگلش میری اتنی اچھی نہیں ہے، یونیورسٹیاں تو کسی قانون کے تحت بنتی ہیں، یہ کام 2006سے ہو رہا ہے ،2006سے 2015تک یہ کاروبار ہوتا رہا، اگر یہ درست ہے تو لوگوں سے فراڈ ہوا، اس جرم کو ثابت کرنے کیلئے ایف آئی اے کیا کر سکتا ہے۔

دوران سماعت بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد کے مقدمے میں ملزم بری ہو چکے ہیں۔

 چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایف آئی اے نے ثبوت پیش کئے۔

جس پر بشیرمیمن نے جواب میں بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل زیرالتواء ہے۔

عدالت کے استفسار رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے بتایا کہ اپیل 22 فروری کوسماعت کیلئے مقرر کردی،جسٹس اطہرمن اللہ کیس سنیں گے۔

چیف جسٹس نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ جسٹس اطہرمن اللہ کے ساتھ جسٹس گل حسن کو بھی شامل کریں،اسلام آباد ہائیکورٹ 3 ہفتوں میں فیصلہ کرے،عوام میں افواہیں تھیں جج نے ضمانت کیلئے پیسے لئے،اس جج کا نام کیا ہے اور اس کے خلاف کیاکارروائی ہورہی ہے۔

 رجسٹراراسلام آباد ہائیکورٹ نے بتایا کہ جج کا نام پرویزالقادر میمن ہے، جس پر چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے کو مخاطب کرکتے ریمارکس دیئے کہ یہ تو آپ کی برادری کانکل آیا، بشیرمیمن نے جواب میں کہا کہ یہ میرا عزیز ہے لیکن میں شرمندگی محسوس کرتاہوں۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ ملزمان تعاون نہیں کرتے تواستغاثہ ضمانت منسوخی کی درخواست دے ،ٹرائل کورٹ 2 ہفتوں میں ضمانت منسوخی کا فیصلہ کرے ، ماتحت عدلیہ اور ہائی کورٹ سے ملزمان کاعدم تعاون برداشت نہیں کریں گے، یہ میرے ملک کیلئے شرمندگی کامعاملہ ہے، اپنی قوم کوشرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔

loading...
loading...